اُمَّت پہ آ پڑی عجب افتاد یا نبی

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search

شاعر : اسلم فیضی

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اُمَّت پہ آ پڑی عجب افتاد یا نبیؐ!

اپنے بھی ہوگئے ستم ایجاد یا نبیؐ!


جب سے ہوئے ہیَں آپؐ کی چوکھٹ سے دور ہم

سنتا نہیں ہے کوئی بھی فریاد یا نبیؐ!


بس آپؐ کے سوا نہ کوئی دوسرا رہے

دل کے حِرا میں آپ ہوں آباد یا نبیؐ!


امن و اماں کے راستے معدوم ہوگئے

پھیلے ہوئے ہیَں چار ُسو صیّاد یا نبیؐ!


پُرسانِ حال کوئی بھی اپنا نہیں رہا

فریاد ہے اِک آپؐ سے فریاد یا نبیؐ!


فیضیؔ کی التجا ہے کہ اُمّت پہ ہو کرم

دنیا کے غم سے کیجئے آزاد یا نبیؐ!

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات