استغاثہ کشمیر کی دعوت

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search


کشمیر.jpg

تحریر : ابو الحسن خاور

حمدیہ و نعتیہ شاعری میں استغاثہ ءِ کشمیر کی دعوت[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

لفظ استغاثہ کا لغوی معنی فریاد و داد خواہی ہے ۔ شعری اعتبار سے ایسی شعری تخلیق جس میں اللہ رب العزت یا رسول ِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نظر کرم کی التماس کی گئ ہو۔اسے شہر ِ آشوب بھی کہتے ہیں اور استمدادی شاعری بھی ۔ ہئِیتی اعتبار سے یہ نظم ، غزل ، رباعی کسی بھی شکل میں ہو سکتی ہے ۔ اللہ رب العزت کے حضور پکار ہوگی تو اسے حمدیہ استغاثہ اور رسول ِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی جائے تو نعتیہ استغاثہ کہلائے گا ۔ استغاثے کی روایت دیگر نعتیہ عناصر کی طرح عربی سے فارسی اور فارسی سے اردو میں نفوذ پذیر ہوئی ۔ فارسی میں ہم سعدی و جامی سے زیادہ مانوس ہیں ۔ ان کی شاعری میں بھی استغاثے کے نمونے موجود ہیں۔ اردو نعت گوئی کی ابتدا تو اردو کی اوائل مثنویوں کے زمانے ہی میں ہوگئی ۔ متاخرین میں نعت گوئی کی دو اہم شخصیات امیر مینائی اور محسن کاکوروی سے آج کے قاری بھی شناسا ہیں ۔ ان سے پہلے کرامت علی شہیدی، ابراہیم دہلوی، کفایت علی کافی ، لطف اللہ بریلوی ، امداد اللہ مہاجر مکی نے نعت گوئی کی آبیاری کی ۔ متاخرین کے بعد نعت میں ایک نئے اسلوب کی بنا پڑی ۔ الطاف حسین حالی ، احمد رضا بریلوی، ظفر علی خان اور علامہ اقبال کی نعتیہ شاعری اس اسلوب اور دور کی نمائندہ شاعری تھی ۔ اسی دور میں استغاثہ ایک چھتنار شجر میں تبدیل ہوتا ہوا نظر آتا ہے ۔ ان احباب نے بھی عمدہ استغاثے لکھے ۔

نعتیہ استغاثے یا شہر ِ آشوب کو تین مختلف اقسام میں رکھا جا سکتا ہے

1* ذاتی مسائل اور مصائب ۔ اس طرح کے استغاثے قریبا ہرنعت گو کی شاعری میں نظر آجاتے ہیں ۔

2* امت کی مجموعی ابتری اور بد حالی کا تذکرہ ۔ حالی ، ظفر اور اقبال کی شاعری میں اس کے بہت سے نمونے ملتے ہیں ۔ اس ذیل میں عبد العزیز خالد کی شاعری اور حفیظ تائب کا مقبول عام استغاثہ " ہم کو درکار ہے روشنی یا نبی " بھی بہت اہم ہیں ۔

3* کسی خاص محرک یا تناظر میں کہے گے نعتیہ استغاثے

ہم فی الحال تیسری قسم کی استغاثوں کی ہی کچھ اہم مثالوں پر سرسری نظر ڈال کر کشمیر پر کہے گئے اشعار کی طرف بڑھیں گے ۔ اس کی ایک مثال شیخ سعدی کا وہ استغاثہ ہے جو انہوں نے عباسی خلافت کے زوال پر پیش کیا

آسماں را حق بود گر خوں بگرید بر زمین

بر زوالِ ملکِ مستعصم امیرالمؤمنین

ای محمد گر قیامت می‌برآری سر ز خاک

سر برآور وین قیامت در میانِ خلق بین

نازنینانِ حرم را خونِ خلقِ بی‌دریغ

ز آستان بگذشت و ما را خونِ چشم از آستین


اگر آسمان امیرالمومنین مستعصم کی بادشاہت کے زوال پر زمین پر خون برسائے تو یہ اُس کے لیے روا ہے۔اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !، اگر آپ قیامت کے وقت اپنی تربت سے باہر تشریف لائیں گے تو ابھی تشریف لائیے اور لوگوں کے درمیان یہ قیامت دیکھیے۔حرم (محل) کے نازنینوں کی دہلیز سے بے دریغ لوگوں کا خون بہہ گیا اور (اُس کے غم میں) ہماری آستین خونِ چشم سے رنگین ہو گئی۔

بر صغیر پاک و ہند میں مسلماںوں کے زوال کے بعد ابتری بڑھتی گئی جس پر کئی شعراء نے ملی شہر ِ آشوب تو لکھے لیکن نعتیہ استغاثے کی پہلی مثال شاید حالی کے کلام میں ملتی ہے ۔

اے خاصۂ خاصانِ رسل وقت دعا ہے

اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے


جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے

پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے


پردیس سے مراد برصغیر ِ پاک و ہند ہے ۔ حالی کے بعد یہ تڑپ ظفر میں نظر آتی ہے ۔ ظفر علی خان کا استغاثہ پیش ِ خدمت ہے


اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب

صبح ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب

مغرب کی دستبرد سے مشرق ہوا تباہ

ایماں کا خانہ، کفر کے ہاتھوں ہوا خراب

یثرب کے سبز پردے سے باہر نکال کر

دونوں دعا کے ہاتھ بصد کرب و اضطراب

حق سے یہ عرض کر کہ تیرے ناسزا غلام

عقبیٰ میں سرخرو ہوں تو دنیا میں کامیاب


اقبال کی شاعری کا بڑا حصہ ملی شاعری کا نادر ترین نمونہ ہے ۔ اس میں نعت بھی ہے استغاثہ بھی ۔ تاہم اقبال جب بارگاہ رسالت میں پیش ہوتے ہیں تو صرف برصغیر ہی نہیں بلکہ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر تک کے لیے بے چین نظر آتے ہیں ۔ ان کے استغاثے میں برصغیر سے زیادہ ملت کی مجموعی زبوں حالی کا ذکر ہے ۔ ہاں ان کی شاعری میں برصغیر کے مسلمانوں کی حالت ِ زار اور اس پر تڑپ موجود ہے لیکن اس کے لیے ان کے مخاطب برصغیر والے ہی ہیں ۔ ان کے استغاثے اوپر متعین کردہ اقسام میں دوسری قسم کے استغاثوں کی روح لی ہوئے ہیں ۔

سیماب اکبر آبادی کا ایک استغاثہ بھی میری رسائی میں ہے جو انہوں نے ترکی کے زوال پر لکھا ۔


آپ کے جاتے ہی دنیا پہ مصیبت آئی

ایک آفت جو گئی دوسری آفت آئی

آہ بربادیٔ اسلام کی نوبت آئی

جس کی اُمید نہ تھی ہم کو وہ ساعت آئی

وہ ہی ٹرکی جو کبھی روم بھی کہلاتا تھا

نام سے جن کے ، دل اغیار کا تھراتا تھا

مدتوں سے جسے بیمار کہا جاتا تھا

اشک بھر آتے تھے جب ذکر کبھی آتا تھا

آہ اب ماتم رخصت اسی بیمار کا ہے

حال صدمے سے برا قوم دل افگار کا ہے

میں نے فریاد میں رو رو کے گزارش کی تھی

داد تو داد توجہ بھی نہ سرکار نے کی

جاں بلب آمد و امید قرار آخر شد

وقت بگذشت و مریض آخر کار آخر شد


سیماب اکبر آبادی کے استغاثے میں "مطلع" اور " داد تو داد توجہ بھی نہ سرکار نے کی " پر میرے تحفظات ہیں مطلع میں پہلے مصرع میں "آپ کے جاتے ہی " اور دوسرے مصرع میں " ایک آفت جو گئی " اگر قاری کے ذہن میں ربط پا جائیں تو نعوذ باللہ انتہائی غیر مناسب معنی برآمد ہوتے ہیں ۔ ان معنوں کے آگے دیوار صرف ایک تعظیمی لفظ " آپ " ہے ۔ ثانی الذکر یعنی "داد تو داد توجہ بھی سرکار نے کی" میں ایک جسارت ہے اور استغاثہ التماس ِ نظر کرم کی بجائے شکوے [واسوخت ] میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔


احمد ندیم قاسمی ان خوش قسمت شعراء میں سے ہیں جو نعت گو تو نہ تھے لیکن حفیظ تائب کے ساتھ خصوصی تعلق اور محبت کی وجہ سے نعت گو حضرات میں بھی بہت احترام رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک ہی نعتیہ مجموعہ ہ ۔ انہوں نے باقاعدہ استغاثہ تو نہیں کہا لیکن ان کی شہرہ ء آفاق نعت کا ایک شعر اسی کی مثال ہے ۔


ایک بار اور بھی یثرب سے فلسطین میں آ

راستہ تکتی ہے پھر مسجد ِ اقصیٰ تیرا


کراچی سے تعلق رکھنے والے بے مثال نعت گو شاعر ادیب رائے پوری " نے حالی کے اشعار " اے خاصہ ءِ خاصان ِ رسل وقت دعا ہے" پر 'چیچنیا" کے لیے ایک استمدادی تضمین کہی ہے ۔ جو بہت خاصے کی شے کہ استعفادے کے لیے دو بند پیش کیے جا رہے ہیں ۔

کشیمر کہ بھارت کہ فلپین1 و فلسطین

ہر فرش ِ زمیں خون ِ مسلماں سے ہے رنگین

ہم بوسنیا کے لیے اب تک رہے غمگین

اب چیچنیا ظلم کی چکی میں پسا ہے


اے خاصہ خاصان ِ رسل وقت دعا ہے

امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے


سمجھے تھے کہ اب روس سے اٹھے گا نہ طوفان

یہ "اوس و خزرج" 2 کی روایات کے نگہباں

لیکن ہوئے پھر دست و گریبان ِ مسلمان

تاریخ سے اس قوم نے منہ موڑ لیا ہے


اے خاصئہ خاصان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اللہ عز وجل کا شکر کہ آج چیچنیا کے حالات بہتر ہیں اور وہ ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا جاچکا ہے ۔


کسی خاص محرک کے تحت لکھے جانے استغاثوں کی یہ مثالیں بہت سامنے کی ہیں ۔ یقینا اس کے علاوہ بھی ایسی بہت سے شاعری موجود ہے ۔ اگر اس موضوع پر تحقیق کی جائے تو ایک بڑا ذخیرہ سامنے آسکتا ہے ۔ شہر ِ نعت فیصل آباد کے یسین راز نے "اردو نعت میں استغاثہ اور استمداد کی روایت " پر ایم فل کا مقالہ تحریر کیا ہے ۔ امکان ہیں کہ اس سے مزید مواد حاصل ہو سکتا ہے ۔ یہ مقالہ میری رسائی میں نہیں تھا تو یہ کام میں اس شخص کے لیے چھوڑتا ہوں جو خاص محرکات کے زیر اثر کہے گئے نعتیہ استغاثوں کو اپنا موضوع بنائے ۔ استغاثے کے آداب اور دائرہ کار بھی ایک اہم موضوع ہے جس سے فی الحال بچ کر نکلا جا رہا ہے ۔


ہمارا اصل موضوع اسی طرز پر کشمیر کے لیے کہے گئے استمدادی اشعار کی جمع آوری ہے ۔ اس کی ابتدا جو نعت ورثہ کے ایونٹ "[[تلازمہ کاری ۔ ایونٹ نمبر 17 " سی کی گئی ۔ نعت ورثہ نے کشمیر کے موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے دنیائے نعت کی نمائندگی کی اور اپنے باقاعدہ سلسلے "تلازمہ کاری " میں احباب کو دعوت دی کہ اشعار میں کشمیر کا ذکر کریں ۔ شعراء نے آواز پر لبیک کہا اور ہمیں کشمیر کے متعلق کچھ اشعار موصول ہوئے ۔


کشمیر سات دہائیوں سے متنازعہ علاقہ ہے اور آج تک اس کی قسمت کا فیصلہ نہ ہوسکا ۔ سلام ہے اس قوم کو جو اتنے طویل عرصہ سے اپنے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے ۔ آج کل حالات تشویش ناک ہیں ۔ وادی کشمیر کے نوجوانوں کی بصارتیں خوبصورت نظاروں کے بجائے پیلٹ گنز کا شکار ہو رہی ہیں ۔ کرفیو نافذ کیا جا چکا ہے اور زندگی مفلوج ہے ۔ ایسے میں اگر جنگ چھڑ جائے تو ہندوستانی مسلمانوں کے شاید دل تو کشمیریوں اور مال واسباب قومی حمیت کے تقاضے میں بھارتی فوجوں کے ساتھ ہوں گے لیکن پاکستان مییں آرمی اپنے ہتھیاروں، ڈاکٹرز اپنی صلاحیتوں،ثروت مند اپنی دولتوں اور نوجوان اپنی جانوں ساتھ اس جنگ میں پیش پیش ہوں گے ۔ ایسے میں قلمکار اور شعراء اپنے قلم سے لڑیں گے ۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قلم تلوار سے پہلے حرکت میں آجاتا ہے ۔ یہ حساس طبقہ ایسی نا پسندیدہ صورت حال سے پہلے ہی کشیمیریوں کے لیے تڑپ رہا ہے ۔ جوانوں کی لاشیں ، بچیوں کی دردناک چیخیں اور بوڑھوں کے جوان حوصلے دیکھ کر کونسا دل ِ گداز ہے جس سے درد کا نغمہ نہ پھوٹتا ہوں ۔ تو نعت ورثہ نے انہیں جذبات کی تسکین کے لیے اس ایونٹ کا اہتمام کیا ۔ یہ اشعار جس ترتیب سے موصول ہوئے کسی بھی قسم کی تراش خراش کے بغیر اسی طرح پیش کیے جا رہے ہیں ۔ ان اشعار کو پہلی بارش کہا جا سکتا ہے ۔ ممکن ہے کہ یہ باقی نعت گو شعراء کے لیے ایک مہمیز ثابت ہو اور ہمیں مزید اشعار موصول ہوں ۔


باغِ فردوس کی تصویر, رسولِ عربی

جل رہا ہے مرا کشمیر , رسولِ عربی

دن بدن بڑھتے اداسی کے گھنے سائے یہاں

حوصلہ صبر نہ تدبیر, رسولِ عربی

چار اطراف سے کشمیر کو چھلنی کرتے

ختم ہوتے ہی نہیں تیر , رسولِ عربی

بھائی کی لاش پہ کشمیر میں گریہ کرتی

مر نہ جائے کوئی ہمشیر , رسولِ عربی

صرف اک نظرِ کرم اور بدل جائے گی

جلتے کشمیر کی تقدیر , رسولِ عربی

کب تلک قید میں رکھے گی مری سانسوں کو

ظلم اور جبر کی زنجیر , رسولِ عربی

خواہشِ کفر کہ وہ کاٹ دے شہہ رگ , ارشاد

آپ کے ہوتے , مرے پیر , رسولِ عربی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارشاد نیازی



ظلم اور جبر کی یلغار ہے آقا مددے

ہر طرف ظالم و خونخوار ہے آقا مددے

اہلِ کشمیر پہ ٹوٹے ہیں مصیبت کے پہاڑ

کوئی مونس ہے ، نہ غمخوار ہے آقا مددے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طفیل احمد مصباحی، بھارت


لے رہا ہوں بیٹھ کر مَیں ان کے در پر سسکیاں

ان کی رحمت سے بدل دیں گی مُقدّر سسکیاں

یانبی! اُمّت کے ہیں کیوں بے کفن لاشے پڑے

یانبی! جاری ہیں ماتم اور گھر گھر سسکیاں

یانبی! کشمیر کی حالت ہے جب سے سامنے

میرے اندر سسکیاں ہیں، میرے باہر سسکیاں

یا نبی! کشمیر میں پھر آپ کے سب اُمّتی

لے رہے ہیں سسکیاں، آقا! مُقرّر سسکیاں

رائیگاں جاتے نہیں آنسو بھی اے حسنؔی یہاں

ہو رہی ہیں اُن کے در پر بار آور سسکیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید محمد حسنین الثقلین، مدینہ منورہ، سعودی عرب


دعائیں نم نگاہوں سے ، کیے جاتا ہوں روز و شب

کرم سرکار فرمائیں ، مرا کشمیر جلتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عطا المصطفی، سانگھڑ، پاکستان


بن چکا ظلم کی تصویر رسولِ عربی

اب تو آزاد ہو کشمیر رسولِ عربی

خوفِ مسلم سے دہل جائے کلیجہ سب کا

گونجے اب نعرہء تکبیر رسولِ عربی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد علی ایاز، پاکستان


دل پہ کھاتاہوں،میں تیر،میرےنبی

یعنی میں بھی ہوں کشمیرمیرےنبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عثمان محمود، لاہور، پاکستان


ہے یہی سب کی صدا اب آئیے امداد کو

میرے آقاﷺ اب سنیں کشمیر کی فریاد کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد علی حارث ، کراچی، پاکستان


اے رسولِ خداؐ ہو کرم کی نظر

میری تدبیر پر، میری تقدیر پر

روح چھلنی ہوئی، دل لرزتا ہوا

کتنا رنج و الم میرے کشمیر پر

رحمة العالمیںؐ ارحم الراحمیں

خونِ مسلم ہی کیوں تیر و شمشیر پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیم اطہر، اسلام آباد، پاکستان


ظلم سہ کر بھی تیرا نام ہے لب پر آقا

اب تو کشمیر کی سنیے مرے سرور آقا

خون ہی خون ہے اب اور ہے بارود کی بو

پھول کھلتے تھے محبت کے جہاں پر آقا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نوری آسی، بھارت


الٰہی خطۂ کشمیر کو آزاد کر دے

بنو شیطان کے گٹھ جوڑ کو برباد کر دے

غلاظت دور کر دے کفر کی کشمیر سے اب

یہ جنت ہے ہیاں اہلِ جناں کو شاد کر دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اشفاق احمد غوری، ملتان، پاکستان


کرم کی اک نظر ہم پر خدا را یا رسول اللّٰہ

نہیں تیرے سوا کوئی ہمارا یا رسول اللّٰہ

زمیں کشمیر کی ہم پر ہوئی جاتی ہے تنگ آقا

نہ ہو اندلس سا منظر اب دوبارہ یا رسول اللّٰہ

کوئی خالد کوئی طارق کوئی قاسم عطا ہو پھر

کہیں پلٹے مصیبت کا یہ دھارا یا رسول اللّٰہ

کئی صدیوں سے طوفاں میں گھری ہے کشتئ ملت

کہیں دِکھتا نہیں کوئی کنارا یا رسول اللّٰہ

قضا و قدر کے عامل تری جانب ہی تکتے ہیں

کہ ہو گا کب انہیں تیرا اشارا یا رسول اللّٰہ

کہاں جائیں کہیں کس سے سنے گا کون یہ بپتا

نہیں تیرے سوا اپنا گزارا یا رسول اللّٰہ

مرے بس میں نہیں کچھ بھی مری بس جان حاضر ہے

تری امت کے کام آئے خدا را یا رسول اللّٰہ

بچی کچھ آہیں آنسو ہیں یہی احقر کی پونجی ہے

کرے کیا پیش نوری اب بیچارا یا رسول اللّٰہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظفر اقبال نوری، برطانیہ


سبز موسم کے نگہبان کوئی نظر کرم

میرے کشمیر پہ چھایا ہے لہو رنگ غبار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راحل بخاری، پاکستان


·

ہر سمت سے ہے غیر کی یلغار ، اغثنی

یارب ہوں میں اوہام سے دوچار ، اغثنی

سرحد سے پرے خُلد مری شعلہ زدہ ہے

اور میں کہ ہوں پا بستہ و بے کار ، اغثنی

ہیں جنگ زدہ مشرق و مغرب میں مسلماں

اور زنگ زدہ ہے مری تلوار، اغثنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بسمل شہزاد، پاکستان


نہ سجائیں فقط گھر میں شمشیر کو

نہ کریں رسوا فاروق ؓ و شبیرؓ کو

عزم اجداد کو ماوں کے شِیر کو

بڑھ کے کروالیں آزاد کشمیر کو ................. غضنفر علی


دنیا کے ہر اک خطے میں امت پہ تمہاری

کفار ہوئے جاتے ہیں غالب مرے آقا

فریاد ھے فریاد ھے فریاد کہ اِس دم

کشمیر توجہ کا ھے طالب مرے آقا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تنویر عثمان جمالی


گردش میں مقدّر ترا کشمیر ہے ' گرچہ

خوں رنگ ترا کُوچہ و جاگیر ہے' گرچہ

آزادی و حرمت بھی، تقدّس بھی ملے گا

رحمت کی گھٹا برسے گی، کچھ دیر ہے گرچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکیل کالاباغوی


یا الہی کرم فرما اس گھڑی امداد کر

کفر کی پنجے سے اب کشمیر کو آزاد کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفیہ ناز ، بر طانیہ


ٹوٹ جائے سلسلہ زنجیر در زنجیر کا

اے خدا اب تُو ہی کر دے فیصلہ کشمیر کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الماسی شبی، کینیڈا


آقا مرے کشمیر کی ، ہو ں مشکلیں آسان

اس جنتِ تطہیر کی ، ہو ں مشکلیں آسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسین امجد


معصوم سے بچوں کی کہیں آہ و بکا ہے

سر سے کہیں اڑتی ہوئی بہنوں کی ردا ہے

بے یار و مددگار کہیں لاشہ پڑا ہے

شاید یہ ہمارے ہی گناہوں کی سزا ہے

جنّت بھی تری، ظلم سے برباد ہے یا رب

فریاد ہے فریاد ہے فریاد ہے یا رب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رضوان عاشق


ہیں خستہ حال کشمیری مسلماں

کرم ہو آقا انکی بے بسی پر ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندیم نوری برکاتی، بھارت


اپنی کوتاہی پہ نادم، ہیں خِجل تقصیر پر

تو ہی مولا رحم کر جلتے ہوئے کشمیر پر

ہیں ضعیف و ناتواں، تیرے کرم کی آس ہے

کر کرم اپنے نبی ﷺ کی امتِ دلگیر پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حافظ عبد الجلیل، کوہاٹ، پاکستان


رب راکھا اس تیغ کا جس کی، دشمن دل پر دھار چلے

شاہ نبیؐ کی نوبت باجے، پیر علی کا دیپ جلے

جنت کی تصویر میں دریا رنگ بہاتا بہتا ہو

چند شکارے لوٹ رہے ہوں، نور نہائے شام ڈھلے

آگ لگ اس دلّی کو جو آگ جلائے بیٹھی ہے

موت پڑے اس شاہ پہ جس کا دکھیاروں پر حکم چلے

مولا، اکبر سہرے باندھے، صحرا صحرا رلتے ہیں

طیبہ سے کشمیر میں آو، تم آو تو رنج ٹلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد جہانگیر، کراچی، پاکستان


کھینچی گئی بہنوں کے سروں پر سے ردا ہے

غیرت پہ ہر اک بھائی ہوا اپنی فدا ہے

بچوں کا بھی ظالم نے رکھا خون روا ہے

کشمیر میں دشمن نے کیا قہر بپا ہے

خطہ یہ تباہی کے دہانے پہ کھڑا ہے

اے خاصہ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے

ہے پیٹھ کڑے وقت نصاریٰ نے دکھائی

سازش نے عرب پر تو ہے بجلی سی گرائی

برما کے مسلمان بھی دیتے ہیں دہائی

کشمیر پہ ہندو نے بھی کر دی ہے چڑھائی

ہر کوئی مسلماں کو مٹانے پہ تلا ہے

اے خاصہ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے

دامن تھا کشادہ بڑا اب تنگ ہے ساقی

پانی کا سا اب خون کا بھی رنگ ہے ساقی

ہندو کا یہودی سے یہاں سنگ ہے ساقی

مسلم کا مگر ایک نہ آہنگ ہے ساقی

پیمانہ بھی ہر اک نے جدا اپنا رکھا ہے

اے خاصہ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقصود احمد ملک، پاکستان


اگر آپ نے بھی کوئی ایسا نعتیہ کلام کہہ رکھا ہےتو پر وٹس ایپ کرنا نہ بھولیں ۔


1۔ فلپائن 2۔ "اوس و خزرج" عربی قاعدے سے پڑھنا ہوگا۔ ادیب رائے پوری کے کلیات میں سے یہی متن دستیاب ہوا ہے

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

تلازمہ کاری 1 | تلازمہ کاری 2 | تلازمہ کاری 3 | تلازمہ کاری 4 | تلازمہ کاری 5 | تلازمہ کاری 6 | تلازمہ کاری 7 | تلازمہ کاری 8 | تلازمہ کاری 9 | تلازمہ کاری 10 | تلازمہ کاری 11 | تلازمہ کاری 12 | تلازمہ کاری 13 | تلازمہ کاری 14 | تلازمہ کاری 15 | تلازمہ کاری 16 | تلازمہ کاری 17 | تلازمہ کاری 18 | تلازمہ کاری 19

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات