اب تو ایسا وصال دے یا رب ۔ احمد منیب

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search

شاعر: احمد منیب


حمدِ باری تعالی جل جلالہ[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اب تو ایسا وصال دے یا رب

جان مردے میں ڈال دے یارب


میرا ظاہر حسیں بنایا ہے

میرا باطن اُجال دے یا رب


جس کی خوشبو سے تن بدن مہکے

اتنا اعلٰی خیال دے یا رب


ایسا کردار تو عطا کر دے

ایک دنیا مثال دے یا رب


ایک فکرِ رسا عطا کر کے

اس کو لفظوں میں ڈھال دے یا رب


جس پہ تازہ گلاب کھلتے ہوں

ایسی شاخِ نہال دے یا رب


جس میں حصہ ہو سب غریبوں کا

ایسے مال و منال دے یارب


جو بھی سوچوں دعا میں ڈھل جائے

سوچ کو وہ کمال دے یا رب

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات