سوچتے سوچتے جب سوچ اُدھر جاتی ہے ۔ اختر شمار
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
شاعر : اختر شمار
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
سوچتے سوچتے جب سوچ اُدھر جاتی ہے
روشنی روشنی ہر سمت بکھر جاتی ہے
دھیان سے جاتا ہے غم بے سروسامانی کا
جب مدینے کی طرف میری نظر جاتی ہے
اُڑتے اُڑتے ہی کبوتر کی طرح آخرِکار
سبز گنبد پہ مری آنکھ ٹھہر جاتی ہے
میں گذرتا ، تو وہاں جاں سے گذرتا چُپ چاپ
یہ ہَوَاکیسے مدینے سے گذر جاتی ہے
بخت میں مجھ سے تو اچھّی ہے رسائی اس کی
جو مدینے کو ترے، راہگذر جاتی ہے
رات جب الٹے قدم آتی ہے دِیدار کے بعد
چُومنے آپ کے قدموں کو سحر جاتی ہے
چاہے یہ ڈور سی اُلجھی رہے دُنیا میں شمار
زندگی جا کر مدینے میں سنور جاتی ہے
مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
| "نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659 |
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||
