تبادلۂ خیال صارف:قاری اکرام قادری بریلی شریف
نعت کائنات سے
تیری ذات پر تیرے نام پر خواجہ ہم غریبوں کو ناز ہے تو بڑا غریب نواز ہے تو بڑا غریب نواز ہے
تجھے تیرے پیر کا واسطہ مجھے خواجہ ایسا نواز دے
دے دے صدقہ اپنی نگاہ کا اک نظر غلام پہ ڈال دے
تیرا کام خواجہ نواز نا تو سدا سے بندہ نواز ہے
تو بڑا غریب نواز ہے تو بڑا غریب نواز ہے
میری بات خالی نہ جانے دے میری بات کو خواجہ آج رکھ
تیرے در پہ یوں ہی پڑا رہوں میری بات کی خواجہ لاج رکھ
تیرا کام خواجہ نواز نا تو سدا سے بندہ نواز ہے
تو بڑا غریب نواز ہے تو بڑا غریب نواز ہے
سخی اور بھی ہیں جہان میں تیرے جیسا کوئی سخی نہیں
جسے تو کرم سے نواز دے اسے دو جہاں میں کمی نہیں
بھر دو جھولی خواجہ حنیف کی تیرا دست جو د راز ہے
تو بڑا غریب نواز ہے تو بڑا غریب نواز ہے
قاری اکرام قادری بریلی شریف