تبادلۂ خیال صارف:قاری اکرام قادری بریلی شریف
نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
تیری ذات پر تیرے نام پر خواجہ ہم غریبوں کو ناز ہے تو بڑا غریب نواز ہے تو بڑا غریب نواز ہے
تجھے تیرے پیر کا واسطہ مجھے خواجہ ایسا نواز دے
دے دے صدقہ اپنی نگاہ کا اک نظر غلام پہ ڈال دے
تیرا کام خواجہ نواز نا تو سدا سے بندہ نواز ہے
تو بڑا غریب نواز ہے تو بڑا غریب نواز ہے
میری بات خالی نہ جانے دے میری بات کو خواجہ آج رکھ
تیرے در پہ یوں ہی پڑا رہوں میری بات کی خواجہ لاج رکھ
تیرا کام خواجہ نواز نا تو سدا سے بندہ نواز ہے
تو بڑا غریب نواز ہے تو بڑا غریب نواز ہے
سخی اور بھی ہیں جہان میں تیرے جیسا کوئی سخی نہیں
جسے تو کرم سے نواز دے اسے دو جہاں میں کمی نہیں
بھر دو جھولی خواجہ حنیف کی تیرا دست جو د راز ہے
تو بڑا غریب نواز ہے تو بڑا غریب نواز ہے
قاری اکرام قادری بریلی شریف