صنعت غیر منقوط
صنعت غیر منقوط شعر کہنے کا ایسا ڈھنگ ہے کہ جس میں حروف تہجی کے صرف ایسے حروف استعمال کئے جاتے ہیں جن میں نقاط نہ ہوں ۔ وہ حروف یہ ہیں ا۔ٹ۔ح۔د۔ڈ۔ر۔ڑ۔س۔ص۔ط۔ع۔ک۔گ۔ل۔م۔ں۔و۔ہ۔ء۔ی۔ے
___ TOC ___
غیرمنقوط شاعری کی روایت
انشاء اللہ خان انشا [1756-1817] ایک غیر معمولی اور ممتاز شاعر تھے ۔ انہوں نے بے نقط مثنوی اور دیوان لکھا ۔ عین ممکن ہے کہ اس صنعت کے بانی بھی وہی ہوں [حوالہ درکار ] ۔ انشا کے کچھ اشعار یہ ہیں
ہو عطر سہاگ لگا کر مسرور
آرام محل رکھ اسم دل کا او حور
وہ طور دکھا ہم کو کہ کل ہو معلوم
موسیٰ کا عالم اور وہ لمحہ طور
میرزا دبیر لکھنوی نے بھی اس صنعت کو چکھا ہے ۔
اول سرور دل کو ہو ، اس دم وہ کام کر
ہر اہل دل ہو محو ، وہ مدح امام کر
حاصل صلہ کلام کا دارالسلام کر
کر اس محل کو طور وہ اس دم کلام کر
کہہ آہ ، آہ ، سرور والا گہر کا حال
حال و داع اہل حرم اور سحر کا حال
اسی طرح میر انیس کے ہاں بھی ایسی مثال نظر آتی ہے
اس طرح کا والا ہمم ، اس طرح کا سردار
اس طرح کا عالم کا ممد اور مددگار
وہ مصور الہام احد ، محرم اسرار
وہ اصل اصول کرم داور دوار
حاصل ، اگر اِک مردہ دل آگاہ کو مارا
مارا اگر اس کو اسد اللہ کو مارا
غیر منقوط نعت گوئی
غیر منقوط نعت گوئی میں سر فہرست راغب مراد آبادی ہیں ۔ آپ کی غیر منقوط نعتیہ مجموعہ مدح رسول 1983 میں چھپا ۔ اس میں چالیس نعتیں اور تیس رباعیاں تھیں ۔
1985 میں سید محمد امین شاہ نقوی کا غیر منقوط نعتیہ مجموعہ محمد ہی محمد اس میں پنجابی ، اردو ، فارسی اور عربی چار زبانوں میں 113 منظومات اور 19 قطعات شامل ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے 1989 میں محمد رسول اللہ کے نام سے اپنے غیر منقوط عربی مجموعہ کلام میں 33 منظومات ، 313 اشعار، 12 حمد اور 12 نعتیں پیش کیں ۔
1993 میں میاں چنوں کے سید مختار گیلانی نے محامدِ وراء المعرآ کے نام سے اپنا غیر منقوط مجموعہ کلام پیش کیا ۔ اس میں سرائیکی ، پنجابی ، اردو ، فارسی ، عربی اورانگریزی زبان میں شاعری کی گئی ۔
2013 میں جناب منظر پھلوری کا غیر منقوط مجموعہ کلام ارحم عالم منظر عام پر آیا ۔ اس مجموعہ کلام کو 2014 میں صدارتی ایوارڈ بھی ملا ۔