قاری اکرام قادری بریلی شریف
نعت کائنات سے
قبر کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں تب کہیں جاکر ذرا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماب
پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے
یہ تو ان بچوں سے پوچھو جن کی مر جاتی ہے ماں
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیئے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور تڑپ جاتی ہے ماں
دودھ کی صورت میں خون دل پلاکر میری ماں
کتنی ہی راتوں کو خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں
گھر سے جب پردیس کو جانے لگے نور نظر
تو ہاتھ میں قرآن لیکر در پہ آجاتی ہے ماں
گر مصیبت آپڑے پردیس میں ہم پر اگر
تو آنسوؤں کو پوچھنے خوابوں میں آجاتی ہے ماں
ایسا ل گتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں
دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں
ریت پہ مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں
شکریہ ہوہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا
مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں