لفظ ''ارم'' کا استعمال

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search


"ارم" شداد کے بنائے ہوئے باغ کا نام تھا جسے وہ جنت کہتا تھا۔ کیا مدینہ منورہ کے لیے "ارم" کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے ؟


مثالیں

آپ کا شہر بھی کیا خلد سے کم ہے ہم کو

دشت طیبہ بھی باندازِ ارم ہے ہم کو


ہو رہا ہے مردِ مسلم رہروِ راہِ ارم

کس طرح محمود راہِ ہادئ اسلام ہے


مخالفت میں آرا

ڈاکٹر اشفاق انجم تو نعت پر اس لفظ کے استعمال پر ہی بہت تحفظات رکھتے ہیں ۔ ایک شعر پر رائے دیتے ہوئے فرماتے ہیں

’میرے اسلوب کو ندرت کی ارم بھی ہو عطا

لہجہ وہ دے کہ جو فردوس سماعت ہوجائے

’’ ارم ‘‘ شداد کی بنائی ہوئی جنت <ref> "نعت کائنات" کو "ارم" کو "جنت" کہنے پر بھی اعتراض ہے ۔ "ارم" تو بس ایک باغ یا جگہ تھی جسے "شداد" جنت کہتا تھا ۔ </ref> کا نام ہے۔ میں نعت و حمد میں خصوصاً اس لفظ کے استعمال کے حق میں نہیں ہوں۔<ref> شفیق ، محمدسہیل، ڈاکٹر، ’’نعت نامے بنام صبیح رحمانی‘‘،محولہ بالا،ص۱۱۴۔۱۱۵ </ref>

غلط نہ سمجھنے والوں کی آرا

تنویر پھول ، مجلہ نعت رنگ کے مدیر صبیح رحمانی کو ایک خط میں لکھتے ہیں <ref> تنویر پھول، نعت نامے ، نعت رنگ شمارہ نمبر 26، کراچی </ref>

اردو زبان میں لفظ’’ارم‘‘ کا حوالہ کسی مخصوص جنت یا جنت کے کسی حصے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ اس سے مجازاََجنت یا بہشت مراد ہے ، فیروز اللغات ، نسیم اللغات اور جواہر اللغات سب اسی مفہوم کی تائید کرتے ہیں۔ جو لوگ لفظ ’’عشق‘‘ کی طرح اسے استعمال نہ کرنا چاہیں وہ نہ کریں لیکن استعمال کرنے والوں کو ’’ جاہل و کم علم شعرا‘‘ کہنا مناسب نہیں ۔ غالب ؔ جیسا بڑا شاعر بھی لفظ ’’ارم‘‘ کو اسی مفہوم میں استعمال کرتا ہے : ’’ خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں ‘‘ ۔


مزید دیکھیے

نعتیہ شاعری میں متنازعات

حواشی و حوالہ جات