"قاری اکرام قادری بریلی شریف" کے نسخوں کے درمیان فرق
نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
(قبر کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں ۔ ماں کی شان) |
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 8: | سطر 8: | ||
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیئے | روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیئے | ||
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور تڑپ جاتی ہے ماں | |||
نسخہ بمطابق 19:50، 25 اکتوبر 2025ء
قبر کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں تب کہیں جاکر ذرا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماب
پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے
یہ تو ان بچوں سے پوچھو جن کی مر جاتی ہے ماں
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیئے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور تڑپ جاتی ہے ماں
دودھ کی صورت میں خون دل پلاکر میری ماں
کتنی ہی راتوں کو خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں
گھر سے جب پردیس کو جانے لگے نور نظر
تو ہاتھ میں قرآن لیکر در پہ آجاتی ہے ماں
گر مصیبت آپڑے پردیس میں ہم پر اگر
تو آنسوؤں کو پوچھنے خوابوں میں آجاتی ہے ماں
ایسا ل گتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں
دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں
ریت پہ مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں
شکریہ ہوہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا
مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں