"اللہ - لفظ اللہ کا عروضی وزن" کے نسخوں کے درمیان فرق
نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (نیا صفحہ: {{بسم اللہ }} زمرہ: نعتیہ شاعری میں متنازعات لفظ " اللہ '' ل پر تشدید کی وجہ سے چار پانچ آواز ال لا...) |
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 24: | سطر 24: | ||
=== مزید دیکھیے === | === مزید دیکھیے === | ||
=== حواشی و حوالہ جات === | |||
نسخہ بمطابق 21:33، 24 مارچ 2017ء
لفظ " اللہ ل پر تشدید کی وجہ سے چار پانچ آواز ال لا ہ دیتا ہے ۔ اور عروض کے مطابق یہ "مفعول" کے وزن پر ہے ۔ تاہم بعض شعراء ضرورت ِ شعر کے تحت اسے فعلن اور بعض اوقات صرف فعل [ بسکون ع ] بھی باندھ لیتے ہیں ۔
مفعول کے وزن پر مثالیں
اللہ کے احساس کا احساں کوئی کم ہے
سارا ہی کرم اس در ِ والا کا کرم ہے
فعلن کے وزن پر مثالیں
فعل کے وزن پر مثالیں
تخفیف کی مخالفت میں آراء
ڈاکٹر عزیز احسن
"مجھے بھی اس بات پر اصرار کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام کو مخفف نہیں کرنا چاہیے، چاہے شعری ضرورت کچھ ہی کیوں نہ ہو، اس فعلِ قبیح سے بچنا لازمی ہے ۔ اللہ کا لفظ پانچ حرفی ہے(بروزن مفعول) اور اس کا ہر لفظ پورا پڑھا جاتا ہے۔اس لیے اسے کسی طور چار حرفی (بر وزن فعلن) بنا کر نہیں لکھنا چاہیے" <ref> نعتیہ ادب کی تخلیق، تنقید اور تحقیق کے تلازمے ،- ڈاکٹرعزیز احسن ، نعت رنگ ۔ شمارہ 25 </ref>