"قاری اکرام قادری بریلی شریف" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
سطر 22: سطر 22:
تو آنسوؤں کو پوچھنے خوابوں میں آجاتی ہے ماں
تو آنسوؤں کو پوچھنے خوابوں میں آجاتی ہے ماں


ایسا ل
 
گتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں
ایسا لگتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں
کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں
کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں



حالیہ نسخہ بمطابق 19:51، 25 اکتوبر 2025ء

قبر کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں تب کہیں جاکر ذرا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماب


پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے یہ تو ان بچوں سے پوچھو جن کی مر جاتی ہے ماں


روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیئے چوٹ لگتی ہے ہمارے اور تڑپ جاتی ہے ماں


دودھ کی صورت میں خون دل پلاکر میری ماں کتنی ہی راتوں کو خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں


گھر سے جب پردیس کو جانے لگے نور نظر تو ہاتھ میں قرآن لیکر در پہ آجاتی ہے ماں


گر مصیبت آپڑے پردیس میں ہم پر اگر تو آنسوؤں کو پوچھنے خوابوں میں آجاتی ہے ماں


ایسا لگتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں


دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں ریت پہ مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں


شکریہ ہوہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں