کیسے پھر اس کو دوری ءِ منزل کا غم رہے ۔ ارشد شاہین

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


شاعر : ارشد شاہین

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

کیسے پھر اس کو دوری ئ منزل کا غم رہے

جس کی نظر میں آپ کا نقشِ قدم رہے


جب تک بدن کا سانس سے رشتہ بحال ہے

لب پر درودِِ پاک رہے ، آنکھ نم رہے


عشقِ رسولِ پاک کی دولت ملے جسے

کیوں کر وہ جگ میں طالبِ جاہ و حشَم رہے


یا رب دعا ہے عمر کٹے اُن کے عشق میں

مجھ پر مرے نبی کی نگاہِ کرم رہے


لکھتا رہوں میں نعت ہی ارشد تمام عمر

توصیفِ مصطفٰی میں رواں یہ قلم رہے


مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

زیادہ پڑھے جانے والے کلام