وادیِ شرک میں توحید کی دعوت کے لیے
نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
شاعر: مشاہد رضوی
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
وادیِ شرک میں توحید کی دعوت کے لیے
آئے ہیں شاہِ دنیٰ سب کی ہدایت کے لیے
اُن کو بخشا شہِ کوثر نے اُخوّت کا جمال
جو تھے مشہورِ زماں ظلم و عداوت کے لیے
امن و انصاف و وفا مہر و خلوص و الفت
مصطفیٰ آئے ہیں اِن سب کی اشاعت کے لیے
سیدِ کون و مکاں ہادی و رہبر آئے
مفلس و بے کس و مجبور کی نصرت کے لیے
ابر کا ٹکڑا معیت میں چلا کرتا تھا
جب بھی بچپن میں وہ جاتے تھے تجارت کے لیے
کیجیے ذکرِ نبی اوج کا باعث ہے یہ
لیجیے نامِ نبی دفعِ مضرت کے لیے
حلقۂ عاصی و بدکار نہ ہوگا مغموم
ہوں گے موجود وہ محشر میں شفاعت کے لیے
سجدۂ شکر بجا لاؤ مشاہدؔ رضوی
چن لیا رب نے تمھیں نعت کی خدمت کے لیے
۱۹؍ رمضان المبارک 1443ھ /21 ؍اپریل 2022ء بروز جمعرات
٭٭٭
پچھلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]