نہ پوچھ ہجرِ نبیؐ میں ہیں لذتیں کیسی ۔ آفتاب مضطر

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


شاعر : آفتاب مضطر

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نہ پوچھ ہجرِ نبیؐ میں ہیں لذتیں کیسی

سرور بخش ہیں اس غم کی راحتیں کیسی


مدینے جاتی ہے دن رات میرے دل کی لگن

لگن کو فاصلے کیسے، مسافتیں کیسی


حضورؐ آپ کے در کی گدائی کے آگے

جہاں کی خسروی کیسی، حکومتیں کیسی


جو رب نے خاتمِ مرسل کہا محمدؐ کو

تو اس میں حجتیں کیسی، وضاحتیں کیسی


ہوائے ختمِ نبوت کے روبرو گئے کیوں!

’’جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی‘‘


جو گوش بولہبی ہو، نظر ہو بوجہلی

تو پھر سماعتیں کیسی، بصارتیں کیسی


غمِ حضور میں جو دل ہے روز و شب مضطرؔ

فدا ہیں اس پہ نہ پوچھو مسرتیں کیسی!

مزید دیکھیے

زیادہ پڑھے جانے والے کلام