میں نعت نبی کیسے کہوں جاں پہ بنی ہے
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
شاعر: حسن فتح پوری
بشکریہ:عالم نظامی
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
میں نعت نبی کیسے کہوں جاں پہ بنی ہے
لفظوں میں کہاں آپ سی شیریں سخنی ہے
اَس پیکرِ نایاب کا سایہ نہیں کوئی
اس رحمت عالم کی مگر چھاوں گھنی ہے
ہمراہ پیمبر کے گئی عرشِ بریں تک
نالین نبی خاک . مدینہ میں سنی ہے
خود اس کے سوا کوئی نہیں اسکے مقابل
وہ محور تخلیق جہاں ہے، مدنی ہے
لفظوں میں بیان ہوتا نہیں پیکرِ عصمت
ان جیسی خیالوں میں کہاں گل بدنی ہے
خود جیسا سمجھتا ہے رسول عربی کو
اللہ کی مرضی پہ یہ ناوک فگنی ہے
ہر سمت اذاں ، دین نبی ، نام محمد
ہر دشمن اسلام کے گھر سینہ زنی ہے