مولانااحمد رضا خاںبریلوی کی نعتیہ شاعری میں صنعات کا استعمال ۔ڈاکٹر شیخ زبیر احمد قمرؔ دیگلوری

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

مضمون نگار: ڈاکٹر شیخ زبیر احمد قمرؔ دیگلوری


مولانااحمد رضا خاںبریلوی کی نعتیہ شاعری میں صنعات کا استعمال[ترمیم]

مولانا احمد رضا خاں محد ث بریلوی کی پیدائش ۱۰؍ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ / ۱۴؍ جون ۱۸۵۶ء کو اتر پردیش کے شہر بریلی میں ایک دینی و علمی گھرانے میں ہوئی ۔ مولانا احمد رضا خاں محدث بریلوی عالم و فقیہ تھے ۔ آپ کے آبا واجد اد کا تعلق قندھار ( ملک افغانستان ) کے باعظمت قبیلہ بڑھیچ کے پٹھانوں سے تھا ۔ ۶۷؍ سال کچھ ماہ ( قمری مہینے کے اعتبار سے ) کی عمر پاکر ۲۵؍ صفرالمظفر۱۳۴۰ھ / 28 اکتوبر | 1921 ء کو اس دارفانی سے رخصت ہوئے ۔انتقال کے وقت تک پچاس سے زائد قدیم و جدید علوم و فنون پر مشتمل مختلف زبانوں (عربی ، اردو ، فارسی ) میں ایک ہزار کے قریب تصنیفات اور سوسے زائد تلامذہ و خلفا عجم و عرب میں چھوڑے ۔ آپ تا دم آخر مسلک اہل سنت وجماعت پر قائم رہے اور بزرگان دین و اولیاے کرام اوررسالت مآب حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کا عملی نمونہ پیش کیا اور حب نبی میں سر شار اس عظیم شخصیت نے فن نعت گوئی میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہر ہ کیا اور بحیثیت نعت گو دنیا ے شعر و سخن میں ممتاز مقام حاصل کیا ۔

مولانا احمد رضا خاںمحدث بریلوی کا نعتیہ دیوان ’’حدائق بخشش ‘‘ (۱۳۲۵ھ)ہے ۔ فن شاعری میں کچھ صنعات متعین کی گئی ہیں اور ہر صنعت کے قواعد و ضوابط مقرر کئے گئے ہیں ۔ شاعر اپنے کلام کے حسن کو نکھارنے کے لئے ان صنعات کا اپنے اشعار میں استعمال کرکے اہل علم سے داد حاصل کرتا ہے ۔ اردو ادب کے شہرۂ آفاق شعرا اپنے کلام میں ان صنعات کے استعمال میں کوشاں رہے اور حسب استطاعت ان صنعات کا استعمال کیا۔ حضرت رضاؔ بریلوی نے اپنے کلام میں صنعات کا بھرپور استعمال فرمایا اور اردو ادب میں ایک مثال قائم کردی کہ نعتیہ شاعری میں صنعات کا حسین انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور فن و ادب کو اجاگر کیا جاسکتا ہے ۔ حضرت رضاؔ بریلوی نے اپنے نعتیہ اشعار میں ان صنعات کو اتنے حسین پیراے میں نظم فرمایا ہے کہ اہل ذوق کو مجبور ہو کر اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گاکہ حضرت رضاؔ کا مقام فن و ادب کے اعتبار سے بھی تمام شعراے اردو سے بلند و بالا ہے ۔ نعتیہ دیوان ’’حدائق بخشش‘‘ میں درج ذیل صنعتوں کا استعمال کیا گیا :

(۱) صنعت استعارہ (Metaphorical) (۲) صنعت تشبیہ (Allegory) (۳) صنعت مبالغہ*(۴) صنعت اقتباس (۵) صنعت تضاد (۶) صنعت تلمیح (۷) صنعت تلمیع ( ملمع) الف:ملمع مکشوف ،ب: ملمع محجوب (۸) صنعت حسن تعلیل (۹) صنعت تجاہل عارفانہ (۱۰) صنعت تجنیس کامل (تام) (۱۱) صنعت تجنیس ناقص (۱۲) صنعت مراعات النظیر (۱۳) صنعت ترصیع (۱۴) صنعت مقابلہ (۱۵)صنعت مستزاد (۱۶)صنعت لف ونشر (۱۷) صنعت تضمین (۱۸) صنعت تشبیب (۱۹)صنعت مرصعہ (۲۰) تنسیق الصنعات (۲۱) صنعت اتصال تربیعی (۲۲) صنعت مقلوب مستوی (۲۳) صنعت مقلوب کل (۲۴) صنعت حسن طلب (۲۵) صنعت ترجیح بند (۲۶) صنعت مسمط (۲۷)صنعت غزل الشفتین (۲۸) صنعت ایہام (۲۹) صنعت اشتقاق (۳۰) صنعت شبہ اشتقاق (۳۱)صنعت سیاق الاعداد

صنعت استعارہ : صنعت استعارہ میں آنحضرت رضاؔ بریلوی کے درج ذیل اشعار پیش قارئین ہیں ؎

آنکھیں ٹھنڈی ہوں جگر تازے ہوںجانیں سیراب

سچے سورج وہ دل آرا ہے اجالا تیرا

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذی شان گیا

ساتھ ہی منشی رحمت کا قلمدان گیا

واللہ جو مل جائے مرے گل کا پسینہ

مانگے نہ کبھی عطر ، نہ پھر چاہے دلہن پھول

اٹھا دو پر دہ ، دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے

زمانہ تاریک ہورہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے

کعبہ کے بدرالدجیٰ تم پہ کروروں درود

طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروروں درود

درج بالا اشعار میں شعر نمبر ۱ میں ’’سچے سورج ‘‘ شعر نمبر ۲؍ میں ’’منشی رحمت ‘‘ شعر نمبر ۳؍ میں ’’گل‘‘ شعر نمبر ۴؍ میں’’ نورباری ‘‘اور ’’مہر‘‘ شعر نمبر ۵؍ میں’’ بدرالدجیٰ ‘‘اور ’’شمس الضحیٰ ‘‘سے مراد حضور اقدس رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات گرامی ہے ۔

صنعت تشبیہ :

صنعت تشبیہ کا استعمال درج ذیل اشعار میں کیا گیا ہے ؎

پتلی پتلی گل قدس کی پتیاں

ان لبوں کی نزاکت پہ لاکھوں سلام

دل کرو ٹھنڈا مرا، وہ کف پا چاند سا

سینہ پہ رکھ دو ذرا ، تم پہ کروروں درود

ریش خوش معتدل مرہم ریش دل

ہالۂ ماہ ندرت پہ لاکھوں سلام

حضرت رضاؔ اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اور نازک ہونٹوں کو ان کی نزاکت کی بنا پر ’’گل قدس کی پتیوں‘‘ سے تشبیہ دے رہے ہیں ۔ شعرنمبر ۲؍ میں حضرت رضاؔ بریلوی نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’کف پا‘‘ یعنی تلوئوں کو چاند سے تشبیہ دی ہے ۔ شعر نمبر ۳؍ میں حضرت رضا ؔبریلوی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک یعنی داڑھی کو’’ ہالۂ ماہ‘‘ یعنی کہ چاند کے ارد گرد جو کنڈل ہوتا ہے اس سے تشبیہ دی ہے ۔

صنعت مبالغہ:

حضرت رضاؔ بریلوی کی نعتیہ شاعری میں مبالغہ یا غلو متصورہی نہیں ۔ سرکارصلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کا جوحق ہے وہ حق ہی کما حقہ جب ادا نہیں ہوسکتا تو پھر مبالغہ اور غلو کی صورت ہی پیدا نہیں ہوسکتی ۔ حضور کی تعریف اور توصیف میں مبالغہ اور غلو کا سدباب زور و شور سے فرماتے ہوئے حضرت رضاؔ رقم طراز ہیں ؎

اے رضاؔ خود صاحب قرآں ہے مداح حضور

تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی

لیکن رضاؔ نے ختم سخن اس پہ کردیا

خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے

صنعت اقتباس :

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ کا ہے سایہ تجھ پر

بول بالا ہے ترا، ذکر ہے اونچا تیرا

لَاَمْلَئَنََّّ جَہَنَّم تھا وعدۂ ازلی

نہ منکروں کا عبث بد عقیدہ ہونا تھا

اَنْتَ فِیْھِمْ نے عدو کو بھی لیا دامن میں

عیش جاوید مبارک تجھے شیدائی دوست

پاے کوباں پل سے گزریں گے تری آواز پر

رَبِّ سَلِّمکی صدا پر وجد لاتے جائیں گے

حضرت رضاؔ بریلوی کے نعتیہ دیوان ’’ حدائق بخشش ‘‘ میں صنعت اقتباس میں ۱۴۳ ؍اشعار ہیں ۔ (اردو زبان کے ۷۹؍ اشعار اورفارسی زبان کے کل ۶۴؍ اشعار)

صنعت تضاد :

بڑھ چلی تیری ضیا اندھیر عالَم سے گھٹا

کھل گیا گیسو ترا رحمت کا بادل گھر گیا

نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا

حضور خاک مدینہ خمیدہ ہونا تھا

پہلے شعر میں تضاد: (۱) بڑھ چلی v/s گھٹا (۲) ضیا v/s اندھیرا (۳) کھل گیا v/s گھر گیا

دوسرے شعر میں تضاد: (۱) نہ v/sہونا (۲) آسمان v/sخاک (۳) کشیدہ ( کھینچا ہوا) v/s خمیدہ (جھکاہوا) ۔ حضرت رضا ؔکے نعتیہ دیوان میں صنعت تضاد کی ہزاروں مثالیں

پائی جاتی ہیں ۔

صنعت تلمیح:

تیری مرضی پا گیا ، سورج پھرا الٹے قدم

تیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجا چرگیا

اس شعر میں دو تلمیحات یعنی دو واقعات کی طرف اشارہ ہے ۔ مصرعہ اولیٰ میں جنگ خیبر سے واپسی میں مقام صہبا میں حضرت مولیٰ علی مشکل کشارضی اللہ عنہ کی نماز عصر کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈوبے ہوئے سورج کو واپس پلٹایا ۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور مصرعہ ثانی میں معجزۂ شق القمر یعنی چاند کے دو ٹکڑے کرنے کے معجزے کی طرف اشارہ ہے ۔ حضرت رضاؔ بریلوی کے کلام میں صنعت تلمیح کے سینکڑوں اشعار پاے جاتے ہیں ۔

صنعت تلمیع:

حضرت رضا ؔبریلوی نے چار زبانوں سے مرکب جو نعت نظم فرمائی ہے اس میں یہ اہتمام ہے کہ ہر شعر کے پہلے مصرعہ میں عربی اور فارسی زبان اور دوسرے مصرعہ میں بھوجپوری ہندی اور اردو زبان کا استعمال فرمایا ہے ؎

لَمْ یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍ مثل تو نہ شد پیدا جانا

جگ راج کو تاج تورے سرسو، ہے تجھ کوشہ دوسرا جانا

اَنَافِیْ عَطَشٍ وَّسَخَاکَ اَتَمْ اے گیسوے پاک اے ابر کرم

برسن ہارے رم جھم رم جھم ، دو بوند ادھر بھی گرا جانا

درج بالا نعت میں نو اشعار صنعت تلمیع کے ہیں اور نعتیہ دیوان ’’حدائق بخشش ‘‘میں ۳۵؍ اشعار صنعت تلمیع میں کہے گئے ہیں ۔

صنعت حسن تعلیل :

حضرت رضاؔ فرماتے ہیں ؎

خم ہوگئی پشت فلک اس طعن زمیں سے

سن ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے ہمارا

بلبل و نیلپر و کبک بنو پروانو

مہ و خورشید پہ ہنستے ہیں چراغان عرب

پہلے شعر کا مطلب ہے کہ آسمان کو اپنی بلندی پر ناز ہوااور اس نے فخر محسوس کیا تو زمین نے اس کو طعنہ دیاکہ اکڑمت ! میرا رتبہ تجھ سے بلند ہے کیوں کہ مجھ پر مدینہ ہے اور مدینہ منورہ میں وہ ذات گرامی آرام فرما ہے کہ جن کے طفیل تیری بلکہ پوری کائنات کی تخلیق ہوئی ہے ۔ زمین کا یہ طعنہ سن کر آسمان کی پشت خم یعنی پیٹھ تیڑھی ہوگئی ۔ دوسرے شعر میں بلبل ، نیلپر اور کبک ( چکور) کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ تم تینوں چاند اور سورج کے بجائے مدینہ کے چراغ کے پروانے بن جائو کیوں کہ چاند اور سورج پر عرب کے چراغ ہنستے ہیں ۔ اس شعر میں چاند اور سورج پر عرب کے چراغ ہنسنے کی جو علت بیان کی گئی ہے وہ ایک تخیل ہے ۔

صنعت تجاہل عارفانہ:

جنت کو حرم سمجھا ، آتے تو یہاں آیا

اب تک کے ہر اک کا منہ کہتا ہوں کہاں آیا

کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے

ہر طرف دیدۂ حیرت زدہ تکتا کیاہے

پہلے شعر میں جنت کو حرم سمجھنے کے مطالعے کا ذکر اور جنت میں آکر متعجب ہو کر سوال کرنا کہ میں کہاں آگیا یہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبہ ہے کہ مدینہ کے مقابلے میںجنت بھی عاشق صادق کے لئے حیرت آمیز مقام معلوم ہورہی ہے اور کہاں آگیا؟ سوال تجاہل عارفانہ کے تحت ہے ۔

دوسرے شعر میں میدان محشر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوۂ زیبا اور اس جلوے کے صدقے میں حاصل ہونے والا اجالا یعنی نور دیکھ کر کوئی حیرت زدہ ہر طرف تکتا ہوا پو چھے گا کہ یہ اجالا کیا ہے ؟ یہ سوال اور اس کے تکنے کی حرکت کو تجاہل عارفانہ کے تحت بیان کیا گیا ہے ۔

صنعت تجنیس کامل:

حضرت رضا ؔبریلوی کے دیوان میں ایک شعر صنعت تجنیس کامل کا ایسا ہے کہ جس میں ایک لفظ کو سات مرتبہ الگ الگ معنوں میں استعمال کیا گیا ہے ؎

نور و بنت نور و زوج نور و ام نور و نور

نورِ مطلق کی کنیز ، اللہ رے لہنا نور کا*

اس شعر میں لفظ ’’ نور ‘‘ کا کل سات مرتبہ استعمال فرمایا گیا ہے ۔ یہ شعر فاطمۃ الزھرا رضی اللہ عنہا کی شان میں ہے ۔ شعر میں لفظ نور سات الگ الگ معنوں اور مرادوں میں استعمال کیا گیا ہے ۔ پہلی مرتبہ سے مراد سیدہ فاطمہ، دوسری مرتبہ سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی، تیسری مرتبہ سے مراد حضرت علی کر م اللہ و جہہ ، چوتھی اور پانچویں مرتبہ سے مراد حضرت سیدنا امام حسن او رحسین رضی اللہ عنہما، چھٹی مرتبہ سے مراد اللہ تبارک و تعالیٰ کا نور اور، ساتویں مرتبہ جو لفظ نور ہے اس کے معنی ہیں نور ایمان، روشنی ، چمک وغیرہ ۔ لہٰذا شعر کے معنی یہ ہوئے کہ سیدۃ النسا خاتون جنت نور ہیں اور وہ نور نبی کی بیٹی ہیں اور نور ( حضرت علی ) کی زوجہ ہیں اور نور ( حضرت حسن ) ونور( حضرت حسین ) کی والدہ ہیں اور نور (اللہ تبارک و تعالیٰ) کی کنیز یعنی بندی ۔ اللہ تعالیٰ ہم کو بھی نور نصیب فرمائے ۔ یعنی ایمان اور ایمان کی چمک دمک عطا فرمائے اور نور ایمان کی روشنی سے بہر ہ مند فرمائے ۔ حضرت رضاؔ کے نعتیہ دیوان ’’حدائق بخشش ‘‘ میں کل ۱۷۰؍ اشعار صنعت تجنیس کا مل کے ہیں ؎

جنت ہے ان کے جلوہ سے جو یاے رنگ و بو

اے گل ،ہمارے گل سے ہے ، گل کو ، سوال گل

اس شعر میں لفظ گل کا چار مرتبہ استعمال کیا گیا ہے ۔ چاروں مرتبہ لفظ گل الگ الگ معنیٰ کا حامل ہے۔ پہلی مرتبہ بمعنی پھول ، دوسری مرتبہ میں مراد ہے محبوب یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ، تیسری مرتبہ بمعنی سائل یعنی جنت اور، چوتھی مرتبہ بمعنی رونق ، چمک ، نور زینت وغیرہ ۔

صنعت تجنیس ناقص:

ترے خلق کو حق نے عظیم کہا ، تری خلق کو حق نے جمیل کیا

کوئی تجھ سا ہوا ہے ، نہ ہوگا شہا ، ترے خالق حسن و ادا کی قسم

اس شعر میں لفظ خلق کے معنی اخلاق اور لفظ خلق کے معنی پیدائش ہے ۔ خلق اور خلق حروف کے اعتبار سے مساوی ہیں اعراب میں متفرق ہیں ؎

جیسے سب کا خدا ایک ہے ویسے ہی

اِن کا اُن کا تمہارا ہمارا نبی ﷺ

اس شعر میں زیراور پیش کے فرق سے لفظ اِ ن اور اُن کے معنی میں ہوگئے ۔ اس کے علاوہ درج ذیل اشعار میں صنعت تجنیس ناقص کے علاوہ صنعت تام ( کامل ) بھی ہے ۔

سونا پاس ہے ، سونا بن ہے ، سونا ز ہر ہے اٹھ پیارے

تو کہتا ہے نیند ہے میٹھی ، تیری مت ہی نرالی ہے

اس شعرکے مصرعہ اولیٰ میں لفظ سونا=زر طلا Gold وائو مجہول کے ساتھ ہے ۔ دوسری مرتبہ جو لفظ سونا ہے ۔ اس میں وائو معروف ہے اس کے معنی ہیں ویران اور سنسان ۔ تیسری مرتبہ جو لفظ سونا ہے وہ وائو مجہول کے ساتھ ہے اس کے معنی ہیں نیند لینا۔ صنعت تجنیس ناقص میں حضرت رضاؔ بریلوی کے تیس سے بھی زائد اشعار نعتیہ دیوان ’’حدائق بخشش‘‘ میں پائے جاتے ہیں ۔

صنعت مراعات النظیر:(indulgent Compliant)

شاخ قامت شہ میں زلف و چشم و رخسار و لب ہیں

سنبل نرگس ، گل پنکھڑیاں قدرت کی کیا پھولی شاخ

اس شعر میں شاخ ، سنبل ، نرگس ، گل ، پنکھڑیاں میں مناسبت ہے ۔ اسی طرح قامت ، زلف ، چشم ، رخسار ، لب میں بھی مناسبت ہے ؎

نبوی مینھ ، علوی فصل ، بتولی گلشن

حسنی پھول ، حسینی ہے مہکنا تیرا

اس شعر میں مینھ ، فصل ، گلشن ،پھول ، مہکنا کا آپس میں تناسب ہے علاوہ ازیں حضرت رضاؔ بریلوی نے اس شعر میں نبوی ، بتولی اور حسنی اور حسینی کے ربط و علاقہ بیان کرکے رعایت لفظی کی دلکش بندش نظم فرمائی ہے ۔ اس صنعت میں حضرت رضاؔ بریلوی کے نعتیہ دیوان ’’ حدائق بخشش‘‘ میں سینکڑوں اشعار ہیں ۔

صنعت ترصیع:

مثلاً :

نام تیرا ہے زندگی میری مصرعۂ اولیٰ

کام میرا ہے بندگی تیری مصرعۂ ثانی

دونوں مصرعوں کے تمام الفاظ آپس میںہم قافیہ ہیں ۔

دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا

تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ

سب سے بالا و والا ہمارا نبی ﷺ

حضرت رضاؔ بریلوی کے نعتیہ دیوان ’’حدائق بخشش‘‘ میں کل ۲۷؍اشعار صنعت ترصیع میں پائے جاتے ہیں ۔

صنعت مقابلہ :

خوار و بیمار و خطاوار و گنہ گار ہوں میں

رافع و نافع و شافع لقب آقا تیرا

اس شعر کے مصرعہ اولیٰ میں خوار ، بیمار ، خطاواراور گنہ گار کا ذکر کیا گیا ہے ۔ جن میں آپس میں موافقت ہے ۔ پھر مصرعہ ثانی میں ان اول الذ کرکے اضداد کاذ کرکیا گیا ہے ۔ خوار کے مقابلے میں رافع یعنی بلند کرنے والا ، اٹھانے والا کا استعمال کیا گیا ہے ۔ بیمار کے مقابلے میں نافع یعنی فائدہ مند، نفع دینے والا کا ذکر کیا گیا ہے ۔ خطا وار اور گنہ گار کے مقابلے میں شافع یعنی شفاعت کرنے والا کا ذکر کیا گیا ہے ؎

حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں

سر کٹاتے ہیں ترے نام پہ مردان عرب

اس شعر میں مصرعہ اولیٰ میں حسن یوسف ، ملک مصر اور مصر کی عورتوں کی انگلیوں کا کٹناذ کر کیا گیا ہے ۔ یہ مصر عہ اس واقعہ کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ جب مصر کی عورتوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کا جمال و حسن دیکھا تو عالم حیرت میں محو ہو کر بے ساختہ اپنی انگلیاں کا ٹ ڈالیں ۔ اس اعتبار سے یہ شعر صنعت تلمیح میں بھی شمار ہوگا ۔ صنعت مقابلہ میںحضرت رضاؔ بریلوی کا یہ شعرا پنی ایک انفرادی شان رکھتا ہے ۔ کیوں کہ مصرعہ اولیٰ کے تمام الفاظ کے مقابلے میں مصرعہ ثانی میں الفاظ لائے گئے ہیں ۔

صنعت مستزاد:

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ، ہمہ تن کرم بنایا

ہمیں بھیک مانگنے کو ، ترا آستاں بتایا

صنعت لف و نشر:

گیت کلیوں کی چٹک ، غزلیں ہزاروں کی چہک

باغ کے سازوں میں بجتا ہے ترانا تیرا

اس شعر میں پہلے گیت کا اور بعد میں ترانا کا ، کلیوں کے بعد چٹک ہزاروں نغمنی بلبلیں کے بعد چہک ، ساز کے بعد بجنا کا ذکر ہے ۔

صنعت مرصعہ:

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا

جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروروں درود

ذات ہوئی انتخاب و صف ہوئے لاجواب

نام ہوا مصطفیٰ تم پہ کروروں درود

صنعت تنسیق الصفات:

وہی نور حق ، وہی ظل رب ، ہے انھیں سے سب ، ہے انھیں کا سب

نہیں ان کی ملک میں آسماں کہ زمیں نہیں کہ زماں نہیں

اس شعر میں حضرت رضاؔ نے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صفات کا ذکر کیا ہے ۔ مثلاً: نور حق ، ظل رب انھیں سے سب ، انھیں کا سب ، آسمان ملک، زمیں ملک ، زمان ملک ۔

صنعت اتصال تربیعی:

جات بالا تر ز وہم جائہا

جائہا خود ہست بہر پائہا

پائہا چہ بود کہ سرہا زیر پات

پات ہم کہ چوں فرود آئی ز جات

صنعت مقلوب مستوی :

دل پہ کندہ ہو ترا نام کہ وہ دزد رجیم

الٹے ہی پائوں پھرے دیکھ کے طغرا تیرا

اس شعر میں لفظ ’’دزد‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ لفظ سید ھا یا الٹا یکساں ہی پڑھا جائیگا۔

اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب

جس میں دولعل تھے ، زہرا کے وہ تھی کان عرب

اس شعر میں ’’ لعل‘‘ ہے وہ سیدھا اور الٹا دونوں طریقوں سے یکساں پڑھا جائے گا ۔

صنعت مقلوب کل:

فرش والے تری شوکت کا علو کیا جانیں

خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا

اس شعر میں لفظ ’’ فرش ‘‘ کو الٹادینے سے لفظ ’’ شرف‘‘ (بزرگی ) بنتا ہے ۔ ’’ کیا ‘‘ کو الٹادینے سے ’’ایک‘‘ بنتا ہے ۔ ’’ عرش‘‘ کو الٹادینے سے لفظ ’’شرع ‘‘ ( مذہب ) بنتا ہے ۔

نہ روح امیں ، نہ عرش بریں ، نہ لوح مبیں ، کوئی بھی کہیں

خبر ہی نہیں ، جو ر مزیں کھلیں ، ازل کی نہاں ، تمہارے لئے

اس شعر میں لفظ ’’ روح ‘‘ کو الٹاد ینے سے لفظ ’’ حور ‘‘ بنتا ہے ۔ ’’امین ‘‘ کو الٹادینے سے لفظ ’’نیما‘‘ (آدھا) بنتا ہے ۔ ’’عرش‘‘ کو الٹادینے سے لفظ ’’شرع‘‘ بنتا ہے ۔ ’’لوح ‘‘ کو الٹادینے سے لفظ ’’حول ‘‘ (اردو گرد) بنتا ہے ۔

صنعت حسن طلب :

اپنی ستاری کا یا رب واسطہ

ہوں نہ رسوا برسر دربار ہم

تو ہی بندوں پہ کرتا ہے لطف و عطا ، ہے تجھی پہ بھروسا تجھی سے دعا

مجھے جلوہ پاک رسول دکھا، تجھے اپنے ہی عزو علا کی قسم

صنعت مسمط:

اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم ، جانور بھی کریں جن کی تعظیم

سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم ، پیڑ سجد ے میں گرا کرتے ہیں

اس شعر میں عظیم ، تعظیم اور تسلیم ہم قافیہ کے ساتھ تین ٹکڑے شعر کا حسن بڑھا رہے ہیں ۔

تو ہے خورشید رسالت پیارے ، چھپ گئے تیری ضیا میں تارے

انبیا او ر ہیں سب مہ پارے ، تجھ سے ہی نور لیا کرتے ہیں

صنعت ایہام:

صف ہر شجرہ میںہوتی ہے سلامی تیری

شاخیں جھک جھک کے بجا لاتی ہیں مجرا تیرا

چرخ پر چڑھتے ہی چاندی میں سیا ہی آگئی

کرچکی ہیں بدر کو ٹکسال باہر ایڑیاں

صنعت اشتقاق :

مٹ گئے، مٹتے ہیں ، مٹ جائیں گے اعدا تیرے

نہ مٹا ہے ، نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا

اس شعر میں مٹ ، مٹتے ، مٹ جائیں گے ۔ مٹا، مٹے گا کے الفاظ ہیں ۔ یہ تمام الفاظ ایک ہی ماخذ سے اور معنی میں بھی موافقت رکھتے ہیں ؎

سارے اچھوں سے اچھا سمجھیے جسے

ہے اس اچھے سے اچھا ہمارا نبی ﷺ

اس شعر میں اچھوں ، اچھا ، اچھے اور اچھا کے الفاظ ایک ہی ماخذ سے ہیں ۔

صنعت شبہ اشتقاق:

ابن زہرا سے ترے دل میں ہیں یہ زہر بھرے

بل بے او منکر بے باک یہ زہرا تیرا

اس شعر میں لفظ زہرا ، زہر اور زہرا تین الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے ۔ تینوں الفاظ بظاہر ایک ماخذ سے محسوس ہوتے ہیں لیکن تینوں الگ ماخذ سے ہیں اور تینوں الگ معنوں میں ہیں۔

زہرا= سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا لقب ہے ، زہر = سم ، ہلا ہل ، زہرا = حوصلہ ، دلیری الفاظ کے معنی جاننے کے بعد اب شعر کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجا ئے گا ؎

سونا پاس ہے ، سونا بن ہے ، سونا زہر ہے اٹھ پیارے

تو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی نرالی ہے

اس شعر میں سونا= مالا Gold ، سونا =ویران اور سونا = نیندکرنا بظاہر ایک ہی ماخذ کے الفاظ محسوس ہوتے ہیں ۔ لیکن تینوں الفاظ کے ماخذ الگ الگ ہیں ۔

صنعت سیاق الاعداد:

ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی

مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا

اس شعر میں ایک سو اور لاکھ کے اعداد کا استعمال کیا گیا ہے ۔

جو ایک بار آئے دوبارہ نہ آئیں گے

رخصت ہی بارگاہ سے بس اس قدر کی ہے

اس شعر میں ایک اور دو کے اعداد استعمال کئے گئے ہیں ۔ حضرت رضاؔ بریلوی کے کلام میں الفاظ کی جدت کے ساتھ ساتھ شعر کی روانی ، مضمون کی عمدگی اور عشق کا سوز و گداز اشعار کے محاسن میںمزید اضافہ کررہے ہیں ۔ حضرت رضاؔ کا کلام دنیا ے اردو ادب کے شعر ا کو ایک نئی راہ دکھارہا ہے بلکہ دعویٰ اوردلیل کے شواہد سے ثابت کررہا ہے کہ شعرو ادب کے حسن اور رنگینی کے لئے عشق مجازی کے بجائے عشق حقیقی میں نظم کئے گئے اشعار میں زیادہ رنگت اور نکھا رلایا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس کے لئے لازمی ہے کہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم صداقت اور خلوص پر مبنی ہو ۔ ان صنعتوں کے علاوہ فنی لحاظ سے اور بھی کئی محاسن کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے ۔ حضرت رضا ؔکے نعتیہ دیوان ’’ حدائق بخشش‘‘ کے ہرہر شعر کو غور و فکر و فہم و تدبر کی نظر سے غور کریں اور تحقیق کریں تو کئی نئی نئی معلومات واضح ہونے کے امکانات باقی ہیں ۔

………