مثنوی ِ مدینہ ۔ حصہ اول ۔ محمد ندیم بھابھہ

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search

شاعر : محمد ندیم بھابھہ

موضوع : نعت گوئی

ہئیت: مثنوی

مثنوی مدینہ ۔ حصہ اول[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

بارگاہِ حیات بسمﷲ

اے مرے شش جہات بسمﷲ


نور میں ڈوبی رات بسمﷲ

اے مری کائنات بسمﷲ


خیمۂ جاں چراغ بسمﷲ

ائے کجھوروں کے باغ بسمﷲ


فخرِ جسم و جان بسمﷲ

ہاشمی خاندان بسمﷲ


ائے عرب کے شعور بسمﷲ

اور عجوہ کھجور بسمﷲ


پاک و طیب نسب سلام و درود

رحمتوں کے سبب سلام و درود


یا رسولِ خدا سلام و درود

اے مرے ساقیا سلام و درود


راحتِ عاشقیں قدم بوسی

اے کہ سب سے حسیں قدم بوسی


راز دارِ خدا قدم بوسی

سید الانبیا قدم بوسی


اے زبانِ عجم قدم بوسی

دل بہ دل دم بہ دم قدم بوسی


قبلۂ عاشقاں رکوع وسجود

رہبرِ عارفاں رکوع وسجود


مرحبا حسن بانٹتا ہوا حُسن

مرشدا حسن بانٹتا ہوا حسن


خاک کو سرفراز کرتا بدن

نور کو جلوہ باز کرتا بدن


چہرہ روحِ قدیم کا مظہر

ہاتھ اسمِ عظیم کا مظہر


مسکراہٹ کہ اشک تھم جائیں

رعب ایسا فرشتے گھبرائیں


خوش لباسی کہ پھول شرمائیں

خوش خرامی کہ رستے بن جائیں


سنگ کو طور کرنے والے قدم

خاک کو نور کرنے والے قدم


شاہِ خوباں بس اک نظر مجھ پر

کھولیے راز بحرو بر مجھ پر


غم اتارے گئے ہیں سینے میں

ہم پکارے گئے مدینے میں


خواب بن کر اترنے والے غم

اے مری جھولی بھرنے والے غم


چشم سے پھوٹتے ہوئے چشمے

خاک کو گوندھتے ہوئے چشمے


لامکاں آبسا مدینے میں

آسماں جھک رہا مدینے میں


دیکھ لو جو دکھائی دیتا نہیں

اور سنو جو سنائی دیتا نہیں


شعر کہتی ہوئی فضاؤں کو

آؤ سن لو یہاں ہواؤں کو


جو تجلی وہاں پہ طور میں ہے

وہ تجلی یہاں کجھور میں ہے


سبز سر سبز کرنے والا سبز

نور میں رنگ بھرنے والا سبز


صحنِ مسجد میں بھاگتی ہوئی روح

اپنی مستی میں ناچتی ہوئی روح


روح بچے کی طرح گھومتی ہے

اپنے آقا کے پاؤں چومتی ہے


بابِ جبریل وا ہوا پھر سے

دل حدیثوں سے بھرگیا پھر سے


بابِ جبریل کی طرف سوئے

کربلا کے دکھوں میں ہم کھوئے


پیاس اصغر کی ہم کو یاد آئی

صفا مروہ سے دشت میں لائی


خاندانِ رسول زندہ باد

سیدا پھول پھول زندہ باد

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

مثنوی مدینہ ۔ حصہ دوم