عشرت گودھڑوی
نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
نمونہ کلام
سوئے طیبہ جانے والو مجھے چھوڑ کر نہ جانا
سوئے طیبہ جانے والو مجھے چھوڑ کر نہ جانا
میری آنکھوں کو دکھا دو شہ دیں کا آستانہ
ہیں وہ جالیان سنہری میری حسرتوں کا محور
وہ سنبھالا مجھ کو دیں گے جو ہیں خاص رب کے دلبر
مجھے پہنچ کر مدینہ نہیں لوٹ کر ہے آتا
سوئے طیبہ جانے والو ، مجھے چھوڑ کر نہ جانا
میں تڑپ رہا ہوں تنہا میری بے بسی تا دیکھو
میں اسیر رنج و غم ہوں میری بے کل تو دیکھو
ذرا روضہ نبی کا مجھے راستہ دکھانا
سوئے طیبہ جانے والو ، مجھے چھوڑ کر نہ جانا
در مصطفیﷺ پہ میری جب حاضری لگے گی
مجھے پھر کرم سے ان کے نئی زندگی ملے گی
میرے لب پہ دن رات ہے شہ بطحا کا ترانہ
سوئے طیبہ جانے والو ، مجھے چھوڑ کر نہ جانا
کوئی کل کا ایک پل کا نہیں کچھ بھی ہے بھروسہ
مجھے ہمسفر بنا لو کہیں رہ نہ جاوں پیاسا
در مصطفیﷺ ہے عشرت میرا آخری ٹھکانہ
سوئے طیبہ جانے والو ، مجھے چھوڑ کر نہ جانا