عزیز اب نہیں خوف روز جزا کا ۔ عزیز جے پوری
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
شاعر: عزیز جے پوری
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
عزیز اب نہیں خوف روزِ جزا کا
کہ میں امتی ہوں شفیع الوری کا
قصیدہ، رباعی، غزل یا مسمط
وہ ہے جس میں کچھ ذکر ہو مصطفیٰ کا
چہک کہ یہ کہتے ہیں غنچے چمن میں
کہ اس منہ سے اور وصف خیر الوری کا
جو نغمے سنے بلبل خوشنوا کے
اٹھا شور عالم میں صلِ علیٰ کا
اٹھایا حجاب حقیقت یہ کس نے
کھلا راز عالم پہ اتی انا کا
نبیوں کے خاتم ہیں، اللہ اکبر
بڑا مرتبہ ہے رسول خدا کا
وہ خیرالبشر ہیں، وہ نورِ خدا ہیں
بیاں کیا کروں جلوہ کبریا کا
طبیبوں کی ڈھارس مریضوں کی تسکین
مداوا ہر اک علت لا دوا کا
غریبوں کے والی، یتیموں کے وارث
دلاسا دل بیوہ بے نوا کا
امیری کا تمغا فقیری کا تکیہ
غرض مایہ ناز شاہ و گدا کا
یہاں سے وہاں تک، وہاں سے یہاں تک
ہمیں آسرا ہے شہِ دوسرا کا
عزیز اہل طاعت ہیں طاعت پہ نازاں
یہاں آسرا ہے شفیع الوری کا