عجب ہے کیف عجب ہے خمار آنکھوں میں ۔ شاعر لکھنوی
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page; it is not the most recent. View the most recent revision.
شاعر: شاعر لکھنوی
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
عجب کیف ہے عجب ہے خمار آنکھوں میں
بسا ہوا ہے نبی کا دیار آنکھوں میں
جو آئی یادِ مدینہ تو آنسووؔں کی طرح
چھپا لیا ہے اسے بے قرار آنکھوں میں
مجھے تلاش نہیں سُرمہ بصیرت کی
ہے ان کی راہ گزر کا غبار آنکھوں میں
کھڑے ہوئے ہیں ترے در پہ تیرے دیوانے
وفا کی نذر لیے اشکبار آنکھوں میں
قسم خدا کی مدینہ جنہوں نے دیکھا ہے
میں ڈھونڈلوں گا وہ آنکھیں ہزار آنکھوں میں
تصوّ رات میں طیبہ ہے روبرو شاعر
رچی ہوئی ہے مجسّم، بہار آنکھوں میں