شکیل بدالونی

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

نمونہ کلام

تمنا ہے کہ مرتے وقت بھی ہم مسکراتے ہوں

تمنا ہے کہ مرتے وقت بھی ہم مسکراتے ہوں

زباں پر یا محمدﷺ ہو جب اس دنیا سے جاتے ہوں


بنے اے کاش اس دم ساز ہستی آخری ہچکی

فرشتے نغمہ صل علی جب گنگناتے ہیں


مزہ جب ہے کہ ہم دیوانہ وار ان کی طرف جائیں

اشاروں سے شہ ہر دوسرا ہم کو بلاتے ہوں


شب فرقت کی ان رنگینیوں پر جان و دل صدقے

تمہاری یاد ہو دل میں ستارے جھلملاتے ہوں


نہ کیوں اونچا ہو سارے انبیاء سے مرتبہ ان کا

سفارش کرکے جو امت کو اپنی بخشواتے ہوں


سکوں کی ساعتوں میں کون ان کو بھول سکتا ہے

دم مشکل جو ہر اک بے نوا کے کام آتے ہوں


بیاں ہو کیا شکیل اس بزم دل کی جلوہ سامانی

حبیب کبریا جس بزم تشریف لاتے ہوں

شراکتیں

صارف:تیمورصدیقی