سلام ان پر (مظفر وارثی)
نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
طواف اُن کا کرے بزرگی، ہے ختم ہر احترام اُن پر
سلام اُن پر
میں انکا بندہ وہ میرے آقا، نثار انکا غلام اُن پر
سلام اُن پر
نشانِ پا اُن کے، حاشیے سے
وہ رونقیں بانٹتے ہوئے آئے تخلیے سے
سجے ہر اِک رُخ سے زاویے سے، نبیِ رحمت کا نام اُن پر
سلام اُن پر
سکوت، حُسنِ ادا کو پہنچا
شعورِ انساں، بلندی و ارتقا کو پہنچا
نزول کی انتہا کو پہنچا، خُدا کا حتمی کلام اُن پر
سلام اُن پر
وہ اوّل و آخر و مسلسل
وہ سب سے اعلٰی وہ سب سے بالا وہ سب سے افضل
شریعت ان پر ہوئی مکمل، ہوئی رسالت تمام اُن پر
سلام اُن پر
اگرچہ عیسٰی کے بعد آئے
مگر براہیم و نوح و آدم کو یاد آئے
بنامِ عشق وجہاد آئے، لگی ہے مُہرِ دوام اُن پر
سلام اُن پر
قریب بھی ہیں بعید بھی ہیں
بیک زمانہ قدیم بھی ہیں جدید بھی ہیں
مراد بھی ہیں مرید بھی ہیں، فدا ہوں ہر صبح و شام اُن پر
سلام اُن پر