سرکار کی سیرت ہے بسی جب سے نظر میں
نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
شاعر: مشاہد رضوی
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
سرکار کی سیرت ہے بسی جب سے نظر میں
انساں ہے رواں اوج و ترقی کے سفر میں
جس رہ سے گزرتے تھے شہنشاہِ مدینہ
خوشبو کا جہاں اب بھی ہے اس راہ گذر میں
یک لخت امنڈ آیا ہے تسکین کا بادل
جب نامِ نبی میں نے لیا خوف و ضرر میں
اخلاق و وفا نرمیِ گفتار و تلطف
’’ہے ثبت تری ذات سے تاریخِ بشر میں‘‘
آقا نے انھیں خیر کی خیرات عطا کی
اک عہد سے مشہور تھے جو فتنہ و شر میں
آقا نے وہ آداب محبت کے سکھائے
نفرت کا نشاں کچھ نہ رہے نوعِ بشر میں
ہر وقت ترقی پہ رہے سوزِ محبت
ہر وقت عجب کیف رہے قلب و جگر میں
ہے نسبت سرکار سے حاصل مجھے رفعت
کچھ درک نہیں ورنہ مجھے علم و ہنر میں
مداحِ پیمبر ہے مشاہدؔ زہے قسمت
اک نور کی قندیل ہے روشن مرے گھر میں
۱۱؍ رمضان المبارک 1443ھ/13 ؍اپریل 2022ء بروز بدھ
٭٭٭