حیرت و استعجاب اور حاضری کی سرشاری کی شاعری ۔ ڈاکٹر عزیز احسن

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Naat kainaat aziz ahsan 10.jpg

مضمون نگار : ڈاکٹر عزیزؔ احسن

مجموعہ کلام : مدینے سے مدینے تک

شاعر : قمر وارثی


حیرت و استعجاب اور حاضری کی سرشاری کی شاعری![ترمیم]

مدینے سے مدینے تک!

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم نازل فرما یا اور خود ہی اس کی حفاظت کا ذمہ لے لیا:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ o (بے شک ہم ہی نے نازل کی ہے یہ کتابِ نصیحت اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔۔۔ّآیت ۹، سورۃ:الحجر۱۵)

اس آیت کی روشنی میں یہ بات سمجھنا آسان ہوجاتی ہے کہ قرآنِ کریم کو اپنی اصل شکل میں محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے غیبی نظام میں صاحبِ قرآن کی حیاتِ مبارکہ ،آپﷺ کی اداؤں اور آپ ﷺ سے محبت کے نقوش بھی قیامت تک کے لیے محفوظ فرمانے کا بندوبست ہو چکا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج بلا خوفِ تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کائناتِ انسانی میں جتنے انسانوں کو زندگی بسر کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا ان کی زندگی کے مکمل نقوش انسانی دنیا میں کہیں بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔ حتیٰ کے حضور نبیء کریم علیہ السلام سے قبل دنیا میں تشریف لانے والے انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیوں کے مکمل احوال بھی کہیں نہیں ملتے ۔

لیکن نبیء اکرم ﷺ کی زندگی کے لمحے لمحے کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھنیکا انتظام فرمادیا۔ مورخین، سیرت نگار، مغازی نویس، شمائل کے عکاس جیسے طبقات کے ذریعے آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے احوال کی جمع آوری کا بندو بست ہوگیا۔ احادیث ( آپﷺ کے اقوال، احوال و اعمال اور تقریر[کسی نے آپﷺ کے سامنے کوئی عمل کیا تو آپﷺ نے سکوت اختیار فرما کر اس عمل کے جائز ہونے کا اشارہ فرمادیا]) کو محفوظ فرمانے کے لیے محدثین کی جماعت پیدا فرمادی۔یہی نہیں بلکہ راویانِ حدیث کی روایات کی صحت جانچنے کے لیے علم الرجال کا تحفہ عطا فرمادیا تاکہ احادیث میں انسانی نفس کی کارستانیوں کا دخل ہو تو اس کی نشاندہی ہوسکے۔ قرآن کریم کے حرف حرف اور لفظ لفظ کی حفاظت کے سا تھ صاحبِ قرآن کی حیاتِ مبارکہ کے لمحے لمحے کو اس لیے محفوظ رکھا گیا کہ دینِ اسلام کو ابدالآباد کے لیے واحدِ نظامِ حیات کے طور پر قائم رکھنا تھا۔ارشاد ہوا:

۱۸ اِ ِاِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ قف (بلا شبہ دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔۔۔آیت ۱۹، اٰلِ عمران۳) پھر یہ بھی فرمادیا گیا :


لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃ’‘ حَسَنَۃ’‘ (بے شک تمہاری رہنمائی کے لیے اللہ کے رسول [کی زندگی] میں بہترین نمونہ ہے۔۔۔آیت۲۱، سورۃ:الاحزاب۳۳) اس کے ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کو یہ بھی یقین دلادیا گیا کہ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔۔۔(اور ہم نے بلند کردیا ہے آپ کی خاطر آپ کے ذکر کو۔۔۔آیت۴، سورۃ:الانشراح۹۴)

اب یہ بات سمجھنے کی ہے کہ قرآنِ کریم، احادیثِ رسول ﷺ ، تاریخ و سیرت کا اصل لوازمہ تو متعین اور محفوظ ہونے کے بعد صرف نقل در نقل کی صورت ہی میں اگلے زمانوں تک پہنچے گا۔قرآن و احادیث کی تفسیریں اور تشریحات ،البتہ زمانوں کے نظامِ تفہیم کے تحت ہر عہد میں تعبیرات کی نئی کرنوں کے ساتھ سامنے آتی رہیں گی لیکن۔۔۔لیکن اس تمام لوازمے کا دائرہ درس و تدریس اور تعلیم و تعلم یا انفرادی مطالعات تک محدود رہے گا اس میں عمل کی رہنمائی کے لیے جو نمونے ہیں وہ اعمال میں بھی ڈھلتے رہیں گے تاہم اللہ کے ذکر کا وہ طریقہ جس میں حسنِ بیان کی بلندیوں کو چھولینے کا جذبہ ہو وہ صرف شاعری کے ذریعے سامنے آئے گا ۔۔۔۔۔۔اور نبی کا ذکر اللہ کے ذکر کے ساتھ تا قیامت جڑا رہے گا۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ صنعت کا ذکر در اصل صانع کا ذکرہوتا ہے اس لیے نبی علیہ السلام کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ ہی کا ذکر ہے۔ کیوں کہ اسی نے اپنے بندے اور نبی ﷺ کو سیرت و صورت کے اعتبار سے ایسا کامل بناکر بھیجا جس کی کوئی اور شبیہ بھی دنیا کو نصیب نہیں ہوسکتی ہے۔قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلامی جمال ہے اور حضورِ اکرم ﷺ کی ذاتِ والا صفات اللہ تعالیٰ کا تخلیقی جمال ۔ انسانی دنیا میں جس حُسن کو سب سے زیادہ ارفعیت ،پسندیدگی اور پذیرائی حاصل ہے وہ ’’حسنِ اخلاق‘‘ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف حضورِ اکرم ﷺ کے متعلق براہِ راست آپﷺ سے مخاطب ہوکر فرمایا:

وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم۔۔۔اور بے شک آپ عظیم الشان خُلق کے مالک ہیں۔آیت ۴، سورۃ:القلم ۶۸)

پیرمحمد کرم شاہ الازہری ؒ فرماتے ہیں: ’’اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم فرماکر بتادیا کہ حضورﷺ کی ذات تمام کمالات کی جامع ہے۔وہ کمالات جو پہلے نبیوں اور رسولوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے ، وہ مجموعی طور پر اپنی تمام جلوہ سامانیوں اور اپنی جملہ رعنائیوں کے ساتھ اس ذاتِ اقدس و اطہر میں موجود ہیں۔شکرِ نوح،خُلَّتِ ابراہیم،اخلاصِ موسیٰ ،صدقِ اسماعیل،صبرِ ایوب،تواضعِ سلیمان علیہم ا لصلوٰۃ والسلام سب یہاں جمع ہیں‘‘(ضیاء القراٰن، ج ۵، ص۳۳۱)

شاعر چوں کہ طبعاً حسن پرست ہوتا ہے اس لیے وہ صورت کے حسن سے سیرت کے حسن تک ہر چیز کو جمال پسندی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ شعراء کا وہ طبقہ جو مجازی اور عارضی حسن کا پجاری بن کر شعر کہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا۔ لیکن جو شاعر حسنِ ازل کا متلاشی ہوتا ہے اور دائمی حسن و جمال کو پسند کرتا ہے۔ وہ اخلاقیات اور انسانی فلاح کے ہر کام میں رحمتِ الٰہیہ کا جمال دیکھتا اور اسے بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اچھی صورت و سیرت کو دیکھ کر اسے بیان کے دائرے میں لانا چاہتا ہے بلکہ جب اسے اپنی تخلیق(شعر) کے حسن کا ادراک ہوتا ہے تو وہ دوسروں کو بھی اس حسن کے ادراک میں اعلانیہ شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے اعلانِ ’’رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک‘‘ کا سب سے زیادہ اظہار کرنے والا شاعر ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کی تو سوچیں بھی درود پڑھتی رہتی ہیں۔ یہ کام تاریخ داں، محدث، مفسرِ قرآن ،مغازی نویس اور شمائل نگار قسم کے افراد بالکل نہیں کرتے۔ نعت گوئی کا ملکہ لے کر جب بھی کوئی شاعر حضورِ اکرم ﷺ کے دربارِ دُر بار میں حاضر ہوتا ہے وہ ہمہ وقت ایسی سوچوں میں گم ہوتا ہے جو شعوری طور سے درود پڑھنے والوں سے بڑھ کر درود افزا ہوتی ہیں۔ پھر ذرا سوچیے کہ جو شاعرمدینہ طیبہ سے دور رہ کر اپنے آپ کو وظیفہء نعت گوئی سے منسلک رکھتا ہے وہ وہاں پہنچ کر ذہنی طور سے نعتیہ اشعار کی طلب میں مضطرب کیوں نہ ہوگا۔ وہاں پہنچ کر تو اس کے شوقِ اظہار کا وفور دیدنی ہوگا۔

قمر وارثی نے ’’ مدینے سے مدینے تک‘‘ ۔۔۔کی جو بات کی ہے وہ اسی شوقِ اظہار اور حیرت و استعجاب کی کیفیات کا بیان ہے۔ مدینے کی مقدس فضا میں پہنچ کر پہلے تو ہر انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ عمر بھر جس ہستی کی بارگاہ میں دور سے درودو سلام کے نذرانے پیش کرتارہا ہوں آج اس ہستی کے روبرو کھڑا ہوں۔۔۔۔۔۔ یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کے جائے ہے

ایسی صورت میں شاعر کے دامنِ تخلیق میں ویسی ہی حیرتیں آتی ہیں جیسی ہماری متصوفانہ روایت میں سراج اورنگ آبادی کے اظہار میں آئی تھیںیعنی:

خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا نہ پری رہی

نہ تو میں رہا ، نہ تو تو رہا، جو رہی سو بے خبری رہی


سید محمدابوالخیر کشفی نے جب مدینہ منورہ کا حسن دیکھا تو حیرت کی دنیا کا نقشہ اس طرح کھینچا:


روشن ہے مرے خواب کی دنیا مرے آگے

تعبیر بنا گنبدِ خضریٰ مرے آگے


حافظ لدھیانوی نے کہا:


حافظ سا گنہگار بھی ہے حاضرِ دربار اے ہم نفسو! طالعِ بیدار تو دیکھو!


قمر رعینی نے کہا :


حیرت سے دیکھتے ہیں زمیں آسماں مجھے

پہنچا دیا نبیؐ کے کرم نے کہاں مجھے!


اور قمر وارثی کی کتاب ’’مدینے سے مدینے تک‘‘ تو ہے ہی حیرت نامہء حاضری، مثلاً:


قطرہ ہوں سمندر کی طرف دیکھ رہا ہوں

میں روضۂ اطہر کی طرف دیکھ رہا ہوں

کس شان سے قُربِ درِ آقاؐ میں بسے ہیں

حیرت سے ہراک گھر کی طرف دیکھ رہا ہوں

دیدۂ حیرت سمیٹے بھی کہاں تک حیرتیں

دیکھ کر پیہم نزولِ فضلِ رب اُن کے حضور

کتنی روشن ہے جبیں اے گنبدِخضرا تری

دیکھنے والے مسلسل عالمِ حیرت میں ہیں

نہ جانے لے گئی حیرت کہاں اُٹھا کے اُسے

نظر جو بابِ نبیؐ پر جما کے بیٹھ گیا

نظر نظر ہے عجب دلکشی کہ دل چاہے

کیے ہی جائیں نگاہیں سفر مدینے میں

اُتر کے عالمِ وارفتگی میں راز کھلا

کچھ اور ہوتے ہیں شام و سحر مدینے میں

عجب ہے کوچۂ طیبہ میں رنگ و نور کا عالم

بَلا کی حیرتیں ہم اپنی آنکھوں میں بچھا بیٹھے


یہ تمام اور اس جیسے بہت سے اشعار اس مجموعہء نعت میں مل جائیں گے جن سے ز ائرِ مدینہ کی حیرت ٹپک رہی ہے۔ شاعری کرتے ہوئے شاعرپر بڑی اضطراری کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ اس کے ذہن و دل پر اظہار کے لیے اس قدر دباؤ ہوتا ہے کہ اگر وہ شاعری نہ کرسکے تو پاگل ہوجائے۔ ایسی صورت میں اگر اس کا ذہن خالقِ کائنات سے مکالمہ کرنے کی طرف مائل ہوجائے تو وہ ایسے انسان کے مانند ہوتا ہے جو انتہا ئی اضطراری کیفیت میں اللہ کے حضور اپنی حاجات پیش کرکے مشکلات دور کرنے اور دعا قبول ہونے کی درخواست کررہا ہوتا ہے۔ دعا کو اسی لیے مُخُّ الْعِبَادَۃ کہا جاتا ہے کہ اس میں انسان قلبی ،ذہنی، روحانی مکمل طور سے اللہ سے رابطہ کرنے کی سعی کرتا اور جسمانی طور پر اپنے آپ کو اپنے خالق کے روبرو حاضر دیکھتا ہے۔ عبادت میں تو اس کا دھیان بٹ بھی سکتا ہے لیکن حاجت مند جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھا تا ہے تو اس کا مقصد اسے اس کے خالق سے ہم کلام ہونے کی سعادت اس طرح عطا کردیتاہے کہ لمحہ بھرکو بھی وہ غافل نہیں ہوتا۔ شاعر بھی ایسی کیفیت میں جب اس کی ذات پر تخلیقی لمحے کی حکمرانی ہوتی ہے، ایسی ہی صورتِ حال سے دوچار ہوتا ہے۔ مجازی محبوب ہو تو وہ بھی اس کے قریب ہوتا ہے اور اگر قسمت سے اسے حقیقی محبوب کی طرف کچھ قدم چلنے کے لیے شاہراہ نصیب ہوجائے تو خالقِ حقیقی بھی اس کے روبرو ہوتا ہے۔ مجازی محبوب کے لیے تو احمد فراز نے کہا تھا:


کسی کے شہر میں کی گفتگو ہواؤں سے

یہ سوچ کر کہ کہیں آس پاس تھا وہ بھی


لیکن حقیقی محبوب سے تعلق قائم کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے:


آرزوہے بس کہ تیری شانِ قدرت کے نقوش

کاش آجائیں مجھے منظر بہ منظر دیکھنا


اس شعر کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ بیت اللہ میں قمر وارثی نے قرآن کریم کی بیان کردہ حقیقت کو پالیا تھا:


وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ ط (اور وہ تمھارے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی تم ہو۔آیت ۴، سورۃ: حدید۵۷)

یہاں جب شاعر نے معیتِ ربانی کو محسوس کیا تو اسے یہ دعا کرنے کی توفیق ارزانی ہوئی کہ


آرزوہے بس کہ تیری شانِ قدرت کے نقوش

کاش آجائیں مجھے منظر بہ منظر دیکھنا


اب ذرا قمر وارثی کی اس آرزو کا سرا کچھ اور قرآنی آیات سے جوڑ کر دیکھیں جن میں اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی زبان سے کائنات کے مشاہدے کے وقت حیرت کے عالم میں نکلے ہوئے جملے نقل فرمائے ہیں:

’’بے شک آ سمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں[بڑی] نشانیاں ہیں اہلِ عقل کے لیے۔وہ عقل مند جو یا دکرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اور غور کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں [اور تسلیم کرتے ہیں]اے ہمارے مالک!نہیں پیدا فرمایا تونے یہ [کارخانہء حیات]بے کار۔پاک ہے تو[ہرعیب سے]بچالے ہمیں آگ کے عذاب سے‘‘۔ ( اٰلِ عمران۔آیات ۱۹۱۔۱۹۰)

ان آیات کی روشنی میں قمر وارثی کا شعر پھر پڑھیں تو ’’منظر بہ منظر دیکھنے‘‘ کی تمنا کا سر ا منشائے رب العالمین سے منسلک نظر آتا ہے اور اس طرح، کائنات کی وسعتوں میں غور کرنے کے ذکر سے ربانی تحسین کا پہلو بھی نکلتا ہے۔

پھر شاعر بیت اللہ کے دیدار پر شکر گزاری کے احساس سے لبریز خیالات کا اظہار اس طرح کرتا ہوا نظر آتا ہے:

تیری ہی توفیق سے آیا میسر دیکھنا

مجھ سے بے مایہ کو بھی یارب ترا گھر دیکھنا

درجِ ذیل شعر میں قرآنِ کریم کی آیت کے مفہوم کی خوشبو سما گئی ہے: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُم‘‘(سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمھیں یاد کیا کروں گا۔۔۔آیت ۱۵۲، سورۃ: البقرۃ ۲)


یادجورکھتا ہے تجھ کو،تُو اُسے رکھتا ہے یاد

اِس یقیں میں ڈھلنے والے کا مقدر دیکھنا


اللہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ یقیناًایک مسلمان کے ذہن و دل پر حضورِ اکرم ﷺ کی محبت کے نقوش اس طور قائم ہوجاتے ہیں کہ وہ دیارِ سید المرسلین میں حاضری کا خیال باندھے رہتا ہے۔ اور جب یہ خیال عشق کی حدود پارکرجاتا ہے تو یہ کیفیت بھی ہوتی ہے کہ اسباب کی دنیا منہ دیکھتی رہ جاتی ہے اور عاشقِ صادق بغیر دنیاوی اسباب کے بھی طیبہ پہنچ جاتا ہے۔ قمر وارثی کو اپنے جذبہء عشقِ نبوی کے تحت ایسے تجربات بہت ہوئے ہیں اس لیے بجا طور پر وہی یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ:


اُسے اذنِ حضوری مل ہی جاتاہے شہِؐدیں سے

جسے ہر آن رہتا ہے خیالِ کوچۂ طیبہ


نعتیہ شاعری کی والہانہ کیفیت بھی قمر وارثی ہی اچھی طرح بیان کرنے کے اہل ہیں۔ان کا یہ شعر ان کی دلی کیفیات کا سچا مظہر ہے:


اُترجاتی ہے خوشبوجادۂ دل سے رگِ جاں تک

لبوں پر جب مہکتا ہے مقالِ کوچۂ طیبہ


نعت کہتے ہوئے تلقینِ اتباعِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا خیال آجائے تو شاعر تخلیقی زبان میں بڑے کام کی بات کہہ جاتا ہے۔مثلاً


تسلسل اتّباعِ شاہِؐدیں کا

درِ قُربِ الٰہی کھولتا ہے


اللہ تعالیٰ کے قرب کی تمنا کرنے والوں کو اللہ کی محبت کاعملی اظہارکرنا پڑتا ہے اس لیے بندے کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی محبت کے دعوے کی قبولیت، اتباعِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشروط کردی گئی ہے:


قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہ(اگر تم [واقعی] محبت کرتے ہو اللہ سے تو میری پیروی کرو[تب]محبت فرمانے لگے گا تم سے اللہ!۔۔۔آیت۳۱،سورۃ:اٰلِ عمران۳)۔۔۔فرمانِ الٰہیہ کی روشنی میں درجِ بالا شعر کی قرا ء ت کی جائے تو متن (Text) کی خوشبو مزید بڑھ جاتی ہے۔

درجِ ذیل شعر میں شاعر نے حق آگہی کا مرحلہ بجا طور پر اطاعتِ رسول ﷺ سے جوڑتے ہوئے ، خود ترغیبی (یا تبلیغی) رنگ میں بات کی ہے:


قمرؔ دل میں حق آگہی کی تجلی

بغیر اُن کی طاعت کے کب پھوٹتی ہے

دربارِنبوی کا ماحول ماورائی دنیا کے اسرار کھولنے کا سبب بنتا ہے۔ وہاں جتنے زائرین ہوتے ہیں سب کا احوال جدا جدا ہوتا ہے۔ خاموش بیٹھنے والا کوئی بھی شخص اسرارِ حبِ رسول ﷺ کا امین ہوتا ہے لیکن قریب بیٹھنے والوں کو کان و کان خبر نہیں ہوتی۔اس کیفیت کا اظہار قمر وارثی نے کس خوبصورتی سے کیا ہے۔ملاحظہ ہو:


کس کو ہے معلوم کہ ہے کس منزل میں

جو لب بستہ بابِ نبیؐ پر بیٹھا ہے


مسلمانوں کے اجتماعی لاشعور میں حضورِ اکرم ﷺکا تصور ایک Archetype (اصل نمونہ جس کی نقلیں بنائی[اتاری] جائیں۔ پہلا نمونہ ۔مکمل امتیازی[حیثیت کا حامل]ا ور مثالی نمونہ۔انتہائی قدیم نمونہ۔[نفسیات] تمام نوع بنی آدم کے قدیمی تجربات پر مبنی تصور یا علامت۔۔۔ ادب ، مصوری یا قصہ کہانی میں مستقل طور پر باربار رجوع کی جانے[یا ذکر میں آنے ] والی علامت)[۱]ہے۔از روئے قرآن حضورِ اکرم ﷺ کی ذاتِ والا صفات ہماری پوری زندگی کے لیے نمونہ ہے۔آپﷺ کی عطا کردہ عملی اخلاقی اقدار کو سمجھنے کے لیے جب ہماری اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا تھا: ’’اِنَّ خُلُقَ نَبِیِّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ الْقُرْاٰنُ۔۔۔وہ تمام اخلاق و اوصافِ حمیدہ جو قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں آپ ﷺ میں بدرجہء اتم موجود تھے‘‘۔ اب ذرا سوچیے کہ ہمارے پاس حضورِ اکرم ﷺ کی کوئی تصویر نہیں ہے۔ آپ ﷺ کی ذات کا تصور ماورائی ہے۔ اس لیے اگر آپ ﷺ کی ذات اور شخصیت کے ضمن میں کوئی بات کی جائے تو وہ ہمیشہ یک رخی ہوگی۔کیوں کہ شاعر کا بیان، جزوی صداقت کا حامل ہوگا اور وہ بھی صرف بیانیے کی حدود میں رہے گا۔ اس لیے شعرکا اسلوب ، مطلوبہ جذب و کشش کا حامل نہیں ہوگا۔ محمد حسن عسکری نے اس نکتے کوواضح کیا ہے، وہ کہتے ہیں:


’’فنی اظہار کامیاب اس وقت ہوتا ہے جب شاعر بذاتِ خود Archetype کو بیان کی قید میں لانے کی کوشش نہ کرے، بلکہ اس سے اپنا ایک شخصی اور ذاتی رشتہ قائم کرے اور اس رشتے کو اظہار کا موقع دے‘‘۔[۲]


قمر وارثی نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے کہ نعتیہ شاعری میں Archetype کو بیان کرنے سے زبان و قلم قاصر ہی رہتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے، حبِّ رسول ﷺ کا ذاتی احساس شعری پیکر میں ڈھال دیا ہے اور اس طرح شعرِ عقیدت کے اچھے نمونے پیش کرنے کے قابل ہوگئے ہیں:


کھُلتے گئے ہیں مجھ پہ قمرؔ حیرت کے در

اوصافِ سرکارؐ پہ جتنا سوچا ہے


بدل جاتا ہے عالم ہجر کا معراجِ ہستی میں

اگر قسمت سے ہوجائے وصالِ کوچۂ طیبہ

مطمئن ہوتی چلی جاتی ہیں دل کی دھڑکنیں

ایک اک اشکِ ندامت کے سبب اُن کے حضور

صاحبِ روحِ عقیدت ہی کے کھُلتے ہیں نصیب

دیکھا جاتا ہے کہاں نام و نسب اُن کے حضور

سوچیے کیا ہوگا اُن کا خوش نصیبوں میں مقام

ہیں جو مصروفِ سلامی روزوشب اُن کے حضور


’’مدینے سے مدینے تک‘‘ میں شاعری کا جوبن دیکھنے والا ہے۔ ہر شعر کیفیت سے لبریز اور بیان کی متغزلانہ روایت سے جڑا ہوا ہے۔قمر وارثی کا تمام کلام غزل کے طور لکھا گیا ہے۔ نعتیہ غزل میں حضورِ اکرم ﷺ سے تخاطب کی صورت بھی ہوتی ہے اور دیدارِ آقاﷺ کے لیے تڑپ بھی۔ ہجرِ نبوی ﷺ کے احوال میں غزل کا وہ کرب آمیز لہجہ بھی بنتا ہے جو روایتی غزل کی تعریف کے سلسلے میں ’’ہرن کی اس ضعیف ، درد ناک، پُر سوز اور رحم انگیز آواز سے تعبیر کیا جاتا ہے جوشکاریوں میں پھنسنے کے بعد اس کے حلق سے نکلتی ہے‘‘ ۔[۳]


گویا محبوب سے تخاب اور ہجرزدگی میں کرب انگیز پکار، روایتی غزل کے دو عناصر ہیں۔ اور نعت میں یہ مجازی محبوب کے بجائے زندہء جاوید ہستی کے حضور خطاب یا ہجرکے کرب سے کراہنے کی آواز سے مملو شاعری ہوتی ہے۔ نعت میں غزل کے کلاسیکی عناصر کے ساتھ ساتھ ایک عنصر حاضری اور حضوری کی سرشاری کا بھی شامل ہوجاتا ہے۔ مدینے سے مدینے تک کی تمام شاعری میں حاضری اور حضوری کی سرشاری ہی کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے:


تخاطب کا ادب ملاحظہ ہو:


اے شہِؐ دوسرا وہ کسی کا نہیں

رب کے پیاروں میں ہے جو مقام آپؐ کا

صنعتِ خالقِ کونین میں اے شاہِؐامم

آپ کی شان کا شہکار کوئی اور نہیں

کشکولِ دل میں گنجِ سخا سے کھُلا کہ آپؐ

کرتے ہیں کتنا حُسنِ سخاوت سے مالامال


حاضری کی سرشاری میں خوشی کے آنسوؤں کا احوال سنیے:


ڈھلتے ہیں جب کیفِ حضوری میں آنسو

کس کو اپنے دل پر قابو رہتا ہے

حاضری پر کھُلنے لگتی ہیں حضوری کی تہیں

گفتگو اشکِ رواں کرتے ہیں جب اُن کے حضور

حاضری کی سرشاری کی کیفیات ملاحظہ فرمایئے:

اُن آنکھوں کی چمک اللہ اکبر، جن کے سینوں میں

چراغِ گنبدِ خضرا نے بھر دی روشنی اپنی

وہ لمحے تو بہارِ عید سے بھی بڑھ کے ہوتے ہیں

نظر جس وقت آتا ہے ہلالِ کوچۂ طیبہ

جن آنکھوں پہ در حاضری کے کھُلے ہیں

اُن آنکھوں پہ کیا کچھ کھُلا، کون جانے

دیدۂ حیرت سمیٹے بھی کہاں تک حیرتیں

دیکھ کر پیہم نزولِ فضلِ رب اُن کے حضور

بدل جاتا ہے عالم ہجر کا معراجِ ہستی میں

اگر قسمت سے ہوجائے وصالِ کوچۂ طیبہ

مدینہ منورہ سے واپسی کے ساتھ ہی ہجرزدگی کی کیفیات کا نزول ہونے لگتا ہے تو شاعر کہتا ہے:


ہے کچھ تو کہ واپس نہ آنے کی خواہش

سرِ کوئے رحمتؐ لقب پھوٹتی ہے

جانے والا آتو جاتا ہے واپس

لیکن آنکھیں طیبہ میں چھوڑ آتا ہے

شاعر اپنی تمام تر مضمون آفرینیوں کے باوجود نعت میں اپنے تمام احساسات اور جذبات کی عکاسی سے قاصر رہتا ہے۔ قمر وارثی نے مدینہ منورہ کی نور افزا فضاؤں کی کرنیں اپنی شاعری میں سمیٹنے کی کوشش تو کی لیکن یہ احساس باقی رہاکہ:

فضائے نور کو چہرہ نہ دے سکا آخر

قمرؔ تمام ہنر آزما کے بیٹھ گیا


علم بدیع کی ایک صنعت ہے’’ مراعاۃ النظیر‘‘۔اس سے تلازمِ خیال کی وہ نفسی کیفیت مراد لی جاتی رہی ہے جو کسی ایک لفظ کے ذہن میں آنے کے ساتھ ہی اس کے مناسبات کی طرف توجہ مبذول کروا دیتی ہے۔ اسے نفیسات داں Association of Ideas یا ایتلاف ، تلازم افکار، تلازمِ خیال اور تلازمِ ذہنی کہتے ہیں۔ شاعری میں یہ صنعت اگر تخلیقی وفور کے ساتھ جزوِ شعر بن سکے تو بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔اس سے شعر جاندارہوجاتا ہے۔قمر وارثی نے بھی نعتیہ اشعار میں اس صنعت کو بہت استعمال کیا ہے، مثلاً

کلی حرفِ مدحت کی شاخِ سخن پر

عطائے نبیؐ کے سبب پھوٹتی ہے

اس شعر میں کلی، شاخ اور پھوٹتی ہے جیسے الفاظ تلازمِ خیال اور مراعاۃ النظیر کی منہ بولتی تصویر پیش کررہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھیے کہ قمر وارثی نے نعتیہ غزلوں میں تخیل کی پروازکے کیسے کیسے انداز اختیارکیے ہیں۔ مثلاً

قمرؔ فکرِ مدحِ بنیؐ رکھنے والا

خزانہ ادب کا سمیٹے ہوئے ہے

حاضری کی ساعتوں یا ہجر کی گھڑیوں میں شاعر صرف ’’فکر‘‘ کررہا ہے کہ جنابِ رسالت مآب ﷺ کی بارگاہ میں مدحت کا تحفہ پیش کرے۔ ابھی مدحت ، شعری شکل میں نہیں ڈھلی ہے۔ صرف فکر ہے۔شاعر کہتا ہے کہ مدحِ نبی ﷺ کی صرف فکر رکھنے والا مدح کے بے شمار امکانات رکھتا ہے۔ وہ نعتیہ ادب کا ایک نیا جہان تخلیق کرسکتا ہے۔ اس کی صرف فکر ،حضورِ اکرم ﷺ کے مقام و مرتبے کی آگاہی کے ساتھ ، آپﷺ کی بارگاہ میں پیش کیے جانے والے اشعار میں ایسا ادب ملحوظ رکھنے کی صلاحیت کی حامل ہے جس کا تصور بھی کوئی اور نہیں کرسکتا۔ عزت بخاری نے کہا تھا:


ادب گاہ ہیست زیر آسمان از عرش نازک تر

نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا


لفظ ’’ادب‘‘ کو اگر ’’لٹریچر‘‘ کے معنی میں لیں تو یہ امکان بھی شعر کے معنیاتی دائرے میں موجود ہے کہ جوشاعر فکرِ مدح میں محو ہے اسے یہ صلاحیت اور توفیق بھی مل سکتی ہے کہ وہ ادب کا ایک خزانہ دنیا ئے نعت میں پھیلا دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں کہ وہ فکر میں سب کچھ سمیٹے ہوئے ہے۔

قمر وارثی نے ’’فکرِ مدح‘‘ کے خزانے سمیٹنے اور ان کو تقسیم کرنے کے ثبوت اپنی شعری صلاحیتوں سے بھی دیدئیے ہیں اوریہ خزانے ’’دبستانِ وارثیہ‘‘ کے ردیفی مشاعروں میں بھی تقسیم کئے ہیں۔ پھر اس شعری اندوختے کو ادب بنانے کے لیے کتابی صورت بھی دی ہے اور آئندہ کے لیے بھی اس قسم کے خزانے لٹانے کے لیے وہ پرعزم ہیں۔ ان کے اس کام اور عزم کو دیکھتے ہوئے ’’ادب کا خزانہ‘‘ سمیٹے ہوئے ہے۔ کا مصداق اگر خود ان کی ذات کو بھی تصور کیا جائے تو یہ مبالغہ آرائی نہیں بلکہ حقیقت بیانی ہوگی۔

مجھے ’’مدینے سے مدینے تک‘‘ میں بہت سے اشعار اچھے لگے ۔لیکن چوں کہ وہ اشعار کتاب میں بھی موجود ہیں اس لیے یہاں اشعار نقل کرنا مناسب نہیں لگتا۔قارئینِ کتاب خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ جو شعری لوزامہ پیش کیا جارہا ہے وہ نعتیہ ادب کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے کتنی تجلیاں سمیٹے ہوئے ہے ۔چند اشعار بہر حال نقل کرنے ہی ہوں گے:


اُن آنکھوں کی چمک اللہ اکبر، جن کے سینوں میں

چراغِ گنبدِ خضرا نے بھر دی روشنی اپنی

نہ چھُو پائے فرازِ گنبدِ خضرا کسی صورت

ہراک صورت سے پروازِ نظر کو آزما بیٹھے

میں اپنی قدروقیمت سے نہ تھا واقف مگر مجھ پر

حقیقت اُن کے قدموں میں جبیں رکھ کر کھُلی اپنی

نسبت ہے جسے عشقِ شہِؐدیں میں فنا سے

وہ دُھن وہ جنوں اور وہ سَودا ہی الگ ہے


نعتیہ شاعری میں سبز گنبد کے منظر میں گم ہوجانے کا احوال بہت رقم ہوا ہے۔ یا عالمِ ہجر میں سبز گنبد دیکھنے کی آرزو کے لونی عکس (shades) دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ سبز گنبد کو بطور علامت (Symbol) اس طرح استعمال کیا جائے کہ شعر میں سبز گنبد صرف گنبد نہ رہے بلکہ نظامِ عالم پر چھایا ہوا رحمتوں کا ہالہ بن جائے۔ حفیظ تائب نے کہا تھا:

اس کے ہوتے کس اجالے کی ہے دنیا کو تلاش

گنبدِ خضرا کو پیہم دیکھنا او ر سوچنا


قمر وارثی کی شعری اقدار میں سبز گنبد صرف سبز گنبد نہیں رہتا بلکہ سبز گنبد کے مکین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی ذاتِ والا صفات کی طرف سے رحمتوں کے سائے پھیلانے والے نظام کی علامت بن جاتا ہے:

یہ ہے سبزگنبد کی وسعت کا عالم

دوعالم کو تنہا سمیٹے ہوئے ہے

خبر کیا اُن آنکھوں میں کیا کیا ہے روشن

جن آنکھوں میں ہے جلوہ گر سبزگنبد

قمرؔ کچھ نہیں جس کے سائے سے باہر

وہ گنبد ہے وسعت میں کیا، کون جانے

اللہ رب العزت جس انداز سے حضورِ اکرم ﷺ کی ذاتِ والا صفات پر ’’صلوٰۃ‘‘ کی صورت میں رحمتیں نازل فرماتا اور فرشتوں کو آپ ﷺپر ’’صلوٰۃ‘‘ بھیجنے میں شامل فرمارہا ہے۔ پھر ایمان والوں کو آپﷺپر ’’صلوٰۃ‘‘ بھیجنے کا حکم دے رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ نبیء کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی توصیف ازل سے جاری ہے ۔قمر وارثی نے اس حقیقت کا اظہار اس طرح کیا ہے:


ہے ازل سے حرف و لب کے دوش پر خیرالوریٰؐ

آپؐ کی توصیف کا جاری سفر خیرالوریٰؐ


نعتیہ ادب کی خدمت اور شعرِ عقیدت کے تواتر کے ساتھ مجموعے پیش کرتے رہنے کے باعث ’’نعت گوئی‘‘ قمر وارثی کی پہچان بن گئی ہے۔ اس پر وہ جتنا ناز کریں کم ہے۔بلا شبہ ان کے یہ اشعار حقیقتِ حال کے مظہر ہیں، کوئی تعلی نہیں۔

جہانِ ادب میں قمرؔ نعت گوئی

ہے اب میری پہچان اللہ اکبر

کیا پوچھیے بہ صدقۂ حرفِ ثناء قمرؔ

میں بھی ہوں آج عزّت و شہرت سے مالامال

’’مدینے سے مدینے تک‘‘ کا شعری مسودہ پڑھ کر جن ا حساسات ،خیالات،نظریات اور جذبات کا وفور ہوا ، میں نے قرطاس پر بکھیرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ کرے میرے بیان میں تفہیمِ شعرِ عقیدت کے حوالے سے جو ذراسی کرن جگمگائی ہے وہ اس کتاب کے قارئین تک پہنچ کرروشنی کا منبع بن جائے (آمین)!

  • ۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*