تو امیر حرم میں فقیر عجم ۔ مظفر وارثی
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
شاعر: مظفر وارثی
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
تو امیرِ حرم میں فقیر عجم
تیرے گن اور یہ لب میں طلب ہی طلب
تو عطا ہی عطا میں خطا ہی خطا
تو کجا من کجا تو کجا من کجا
میری ہر سانس تو خوں نچوڑے میرا
تیری رحمت مگر دل نہ توڑے میرا
کاسر ذات ہوں تیری خیرات ہوں
تو سخی میں گدا تو کجا من کجا
تو حقیقت ہے میں صرف احساس ہوں
میں سمندر میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں
میرا گھر خاک پر اور تیری راہ گزر
سدرۃ المنتہیٰ تو کجا من کجا
ڈگماوؔں جو حالات کے سامنے
آئے تیرا تصور مجھے تھامنے
میری خوش قسمتی میں تیرا امتی
تو جزا میں رضا تو کجا من کجا
ڈوریاں سامنے سے جو ہٹنے لگیں
جالیوں سے نگاہیں لپٹنے لگیں
آنسووؔں کی زباں ہو میری ترجماں
دل سے نکلے صدا تو کجا من کجا