آپ آئے ذہن و دل میں آگہی کا در کھلا ۔ ایاز صدیقی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

شاعر: ایاز صدیقی

مطبوعہ : نعت رنگ ۔ شمارہ نمبر 27

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

آپ آئے ذہن و دل میں آگہی کا در کھلا

جہل نے بازو سمیٹے ، علم کا شہپر کھلا


چاند سورج آپ کی تسکین سے روشن ہوئے

بابِ مغرب وا ہوا ، دروازۂ خاور کھلا


آپ کی بخشش سے سب پر، کیا فرشتے کیا بشر

آپ کا بابِ سخاوت ہے دوعالم پر کھلا


جب زمیں پر آپ کے قدموں سے بکھری کہکشاں

مقصدِ تکوینِ عالم تب کہیں جاکر کھلا


دل میں جب آیا کبھی عہدِ رسالت کا خیال

ایک منظروقت کی دیوار کے اندر کھلا


اِس کو کہتے ہیں سخاوت ، یہ سخی کی شان ہے

حرفِ مطلب لب پہ آیا، لطف کا دفترکھلا


اُس کی مدحت کیا لکھیں گے ہم زمیں والے ایازؔ !

جس شہِ لوح و قلم پر گنبدِ بے در کھلا


مزید دیکھیے[ترمیم]

زیادہ پڑھے جانے والے کلام