گلدستۂ معرفت
| تصویر شامل کریں |
گلدستۂ معرفت 1306ھ بمطابق 1889ء میں مطبع رضوی،دہلی میں سید میر حسن کے اہتمام سے شائع ہوا۔اس مجموعے میں مولوی محمدعبدالصمد صاحب اویسی فاروقی متخلص بہ کلیمؔ کی نعتیہ شاعری شائع کی گئی ہے۔مجموعے کے سرورق سے معلوم ہوتاہے کہ عبدالصمد کلیم کا تعلق علی گڑھ سے تھا ان کے بارے میں مزید معلومات مجموعے میں نہیں ملتی ۔سرورق کی عبارت اس طرح ہے : سب سے پہلے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم جلی حروف میں درج ہے اس کے بعد کی سطر میں لا الہٰ الا اللہ کا کلمہ اوراس کے بعد گول دائرے میں ’’گلدستۂ معرفت 1306 ھ‘‘ درج ہے۔اس دائرے کے بیرونی خط کے گرد یہ عبارت درج ہے:’’من تصنیف شاعر سخن سنج عدیم المثال نازک خیال غواض دریائے معانی کشاف اسرار ربانی مقبول بارگاہ ربِ احد مولوی محمد عبدالصمد صاحب اویسی فاروقی متخلص بہ کلیم ؔ متوطن علی گڑھ۔اس کے دائرے کے نیچے سطرمیں محمدالرسول اللہ جلی حروف میں درج ہے۔آخر میں مطبع کانام اورمہتم کانام درج ہے۔سرورق کی عبارات کے چاروں طرف بیلدار پھولوں کاحاشیہ ہے۔
یہ ممجموعہ 28 صفحات پر مشتمل ہے جس کا بیشتر حصہ نعتیہ غزلیات پرمشتمل ہے شروع کی دس غزلیات میں اکثر متصوفانہ مضامین نظم کیے گئے ہیں۔ان غزلیات کے بعد 21 نعتیہ غزلیات ہیں یہ سلسلہ ص22 تک پھیلا ہواہے۔*ص23 سے 27 تک غزل کی ہیبت میں منقبتیں درج کی گئی ہیں ۔ جن شخصیات کے مناقب بیان کیے گئے ہیں ان کے اسمائے گرامی یوں ہیں:چار یار (مراد حضرت ابوبکرؓوعمرؓ وعثمانؓو علیؓ )حضرت علیؓ ، عبدالقادر جیلانیؒ ،خواجہ عثمان ہارونیؒ ،خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ ،قطب بختیار ؒ ۔یہ غزلیہ منقبتیں تعداد میں آٹھ ہیں ۔عبدالقادر جیلانیؒ اورخواجہ معین چشتیؒ کی دو دو منقبتیں لکھی گئی ہیں۔
اقتباس از : گلدستہ معرفت ایک قدیم مجموعہ نعت ، ساجد صدیق نظامی
مزید دیکھیے
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||
