مرے آقا آو کہ مدت ہوئی ہے
شاعر : احمد علی حاکم
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
میرے آقا ﷺ آؤ کہ مدت ہوئی ہے
تیری راہ میں اکھیاں بچھاتے بچھاتے
تیری حسرتوں میں تیری چاہتوں میں
بڑے دن ہوئے ہیں گھر سجاتے سجاتے
میرا یہ ہے ایمان یہ میرا یقین ہے
میرے مصطفی ﷺ سا نہ کوئی حسین ہے
کہ رخ ان کا دیکھا ہے جب سے قمر نے
نکلتا ہے منہ کو چھپاتے چھپاتے
قیامت کا منظر بڑا پُرخطر ہے
مگر مصطفی ﷺ کا جو دیوانہ ہو گا
وہ پل صراط سے گزرے گا مسرور ہو کے
نعرۂ نبی ﷺ کا لگاتے لگاتے
میرے لب پہ مولا نہ کوئی صدا ہے
فقط مجھ نکمے کی یہ ہی دعا ہے
میری سانس نکلے درِ مصطفی ﷺ پہ
غمِ دل نبی ﷺ کو سناتے سناتے
یہ مانا کہ اک دن آنی قضا ہے
مگر دوستو تم سے یہ التجا ہے
کہ شہرِ محمد ﷺ کی ہر اک گلی سے
جنازہ اٹھانا گھماتے گھماتے
نہ کعبے سے مطلب نہ مسجد کی چاہت
فقط دل میں حاکمؔ تمنا یہی ہے
جو مل جائے نقشِ کفِ پائے احمد ﷺ
تو مر جائیں سر کو جھکاتے جھکاتے
مزید دیکھیے
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||
