تبادلۂ خیال صارف:176.54.120.92
ہے چہرہ تیرا شمس و قمر سا ہیں زلفیں نیم حجاب تیرا بدر و خر ہیں گدا تیرے ہے چھایا حسن و شباب تیرا
نظریں تیری وہ نین نشیلی ہیں ابرو جیسے کمان ان کے دانت جیسے ہیں موتی ہیرے اور لب ہیں نازک گلاب تیرا
نہ تاب مجھ کو جو داب تیرا پاک توں ہے طاب تیرا داغ عشق لئیے میں سینے تیر مارے جو قاب تیرا
توں بادشاہوں کا بادشاہ ہے تیرے ہی در سے لو لگی ہے کاسہ لئیے میں ہوں آتا آ جا لے جا جواب تیرا
دیدار تیرے کی حسرت لیئے میں جی کے مرتا ہوں مر کے جیتا مجھ پہ اب تو کرم ہو یاور جو آئے مجھ کو خواب تیرا
نہ آب زمزم نہ جام شیریں نہ چائیے مجھ کو حوض کوثر میں ہوں تیرا عطا ہو مجھ کو جو ایک قطرہ لعاب تیرا
ہے جو آتش عشقِ نبی کی بڑھائی ہم نے نہ کمی کی
سیخ پے دل جل رہا ہے لے عشق لے یہ کباب تیرا
جہاں میں سب تو ترف رہے ہیں بلو لو پاس اب کہہ رہے ہیں ہے وہ آب حیات جس میں روضہ سبز و شباب تیرا
خدا سے مانگا ہے توں نے ہم کو حبلی حبلی ربی حبلی خدا گواہ میں صدقے تیرے بنا لے مجھ کو تحاب تیرا
چیر کر دیکھاؤ جو سینہ بس ہے اس میں بس مدینہ واہ رے "شہروز" ہے تیری الفت بقیع میں مدفن خواب تیرا
یہ تبادلۂ خیال صفحہ ایک ایسے صارف کا ہے جس نے اب تک اپنا کھاتہ نہیں بنایا یا یہ صفحہ اس کے زیر استعمال نہیں۔ لہٰذا ہمیں اس کی شناخت کے لئے ایک آئی پی پتہ استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ اس قسم کا آئی پی پتہ ایک سے زائد صارفین کے درمیان میں مشترک بھی ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کی موجودہ حیثیت ایک گمنام صارف کی ہے اور آپ محسوس کریں کہ اس صفحہ پر آپ کے متعلق یہ تبصرے غیر متعلق ہیں تو براہ کرم ایک کھاتہ بنا لیں یا داخل ہو جائیں تاکہ مستقبل میں آپ کو گمنام صارفین میں شمار کرنے سے گریز کیا جائے۔