مندرجات کا رخ کریں

الحمد للہ (غیر منقوط حمدیہ کلام)

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
الحمد للہ (غیر منقوط حمدیہ کلام)
الحمد للہ (غیر منقوط حمدیہ کلام)
معلوماتِ کتاب
شاعر/مصنف/مرتب پروفیسر محمد طاہر صدیقی
زبان اردو
صفحات 136
پی ڈی ایف یہاں پڑھیں
فلیپ، دیباچہ اور مضامین نظر پھلوری، محمد فرقان، کوثر علی، منیر احمد خاور، شوکت جلال چشتی، ریاض احمد قادری، خالد محمود
کلاموں کی تعداد 60
اشاعتی معلومات
سن اشاعت 2019ء
ناشر احسن پبلی کیشنز
ناشر کا پتا زین العابدین پلازہ، پریس مارکیٹ، امین پور بازار، فیصل آباد
شہر فیصل آباد
دستیابی ہیلو بکس، نڑوالہ چوک، فیصل آباد، کتاب مرکز، امین پور بازار، فیصل آباد، المدینہ دار الاشاعت، یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، 38- اردو بازار، لاہور

"الحمد للہ" پروفیسر محمد طاہر صدیقی کا ایک منفرد اور تخلیق کے اعتبار سے انوکھا حمدیہ مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا سب سے بڑا تخصص اور نمایاں اعزاز یہ ہے کہ اس میں شامل تمام حمدیں مکمل طور پر بغیر نقطوں کے (غیر منقوط) لکھی گئی ہیں۔ نعت کے حوالے سے تو اردو ادب میں کئی معروف ناموں کے غیر منقوط مجموعہ ہائے کلام منظرِ عام پر آ چکے ہیں، جن میں منظر پھلوری سرِ فہرست ہیں؛ لیکن حمد کے میدان میں یہ پہلا غیر منقوط حمدیہ مجموعہ ہے جو اس کتاب کی انفرادیت اور ادبی اہمیت کو دو آتشہ کرتا ہے۔

تعارف کنندہ: محمد عزیر

اعزازات

صدارتی ایوارڈ 2014

نمونہِ کلام

مالک وہ ہر عالم کا عالم سارا اس کا ہے

سمک و سما کا مالک وہ ہے صحرا صحرا اس کا ہے


ہر اک رہ ہموار اسی سے، اس سے ہے مسرور سماں

وادی وادی اس سے مہکے، ہر اک لالہ اس کا ہے


اس کا ہی احساس دوامی ہر دم ہر اک حس کو ہے

اللہ اللہ دل کی دھڑک ہے، سر کو سودا اس کا ہے


اس کی عطا کا اور کرم کا لہرائے ہے ہر سو علم

سردی گرمی کے موسم کا ہر اک دھارا اس کا ہے


درد کے ماروں کا ہے سہارا ہر دکھ کا ہے دارو وہ

درد کے، دکھ کے ہر عالم کا ہم کو سہارا اس کا ہے

مزید دیکھیے

نئے صفحات

حواشی و حوالہ جات