مندرجات کا رخ کریں

ارشدالقادری کی نعت

نعت کائنات سے

علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ (ولادت: 5 مارچ 1925ء - وفات: 29 اپریل 2002ء) بھارت میں حنفی عالم دین تھے۔ آپ کا تعلق سنی بریلوی مسلک سے تھا۔ آپ کا اصل نام غلام رشید ہے لیکن قلمی نام ارشد القادری سے مشہور ہیں۔ قائد اہل سنت اور رئیس القلم آپ کے القابات ہیں۔

ولادت ارشد القادری 5 مارچ 1925ء اتر پردیش کے ضلع بلیا کے سیدپورہ گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام عبد اللطیف رشیدی تھا


تعلیم ترميم ارشد القادری نے ابتدائی تعلیم گھر کے علمی ماحول میں حاصل کی، پھر تقریباً آٹھ سال حافظ ملت حضرت علامہ عبد العزیز محدث مبارکپوری بانی جامعہ اشرفیہ، کی آغوش تربیت میں رہ کر اکتساب علم کیا۔1944ء میں دار العلوم اشرفیہ کے سالانہ جلسہ ٔ دستار بندی میں آپ کو سند فضیلت سے نوازا گیا۔ اس کے بعد آپ تدریس کے لیے ناگ پور پھر وہاں سے 1952 میں جمشید پور تشریف لے آئے۔ نصف صدی سے زائد پر محیط تدریسی دور میں تقریباً ڈیڑھ ہزار طلبہ نے آپ سے اکتساب علم کیا آپ ایک صاحب طرز ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ تحقیقی ذہن وفکر رکھنے والے صاحب قلم بھی تھے۔

آپ کی مشہور نعت

بہرِ دیدارِ مشتاق ہے ہر نظر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

چاندنی رات ہے اورپچھلا پہر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

سدرۃ المنتہیٰ عرش و باغِ ارم ہر جگہ پڑ چکے ہیں نشانِ قدم

اب تو اک بار اپنے غلاموں کے گھر دونوں عالم کے سرکارآجائیے

شامِ امید کا اب سویرا ہوا سوئے طیبہ نگاہوں کا ڈیرا ہوا

بچھ گئے راہ میں فرشِ قلب و نظر دونو ں عالم کے سرکار آجائیے

سامنے جلوہ گر پیکرِ نور ہو منکروں کا بھی سرکار شک دور ہو

کرکے تبدیل اک دن لباسِ بشر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

دل کا ٹوٹا ہوا آبگینہ لیے جذبۂ اشتیاقِ مدینہ لیے

کتنے گھائل کھڑے ہیں سرِ رہ گذر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

میرے گلشن کو اک بار مہکائیے اپنے جلووں کی بارش میں نہلائیے

دیدۂ شوق کو کیجیے بہرہ ور دونوں عالم کے سرکار آجائیے

تا ابد اپنی قسمت پہ نازاں رہیں خاک ہوجائیں پھر بھی فروزاں رہیں

دل کی بزمِ تمنا میں اک بار اگر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

آخری وقت ہے ایک بیمار کا دل مچلنے لگا شوقِ دیدار کا

بجھ نہ جائے کہیں یہ چراغ ِ سحر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

شامِ غربت ہے اور شہر خاموش ہے ایک ارؔشد اکیلا کفن پوش ہے

خوف کی ہے گھڑی وقت ہے پر خطردونوں عالم کے سرکار آجائیے