محمد کا آخری خطبہ ۔ سلمان باسط
شاعر : سلمان باسط
محمدﷺ کا آخری خطبہ[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
مرے عزیزو
زمانِ حاضر کے منتخب، بے مثال لوگو
مری طریقت پہ چلنے والو
میں جانتا ہوں
مری معیّت میں جس گزرگاہ پر چلے ہو
بہت کٹھن تھی
قدم قدم پر نئے حوادث
تمہارے سچ کا خراج لینے
تمہاری رہ میں کھڑے ہوۓ تھے
زوال آمادہ لوگ
تم سے عروج کی اس گھڑی میں
آ آ کے پو چھتے تھے
کہ جلتے سورج تلے
عقیدے کی چھاؤں کب تک جواں رہے گی
یہ جاں کنی کا عزاب کتنے برس سہو گے
وہ بے خبر تھے
کہ جو بھی اس راہ پر چلا ہے
وہ جبر کی آہنی فصیلوں کو
سنگِ منزل سمجھ کے بڑھتا چلا گیا ہے
مرے عزیزو
اب اس گھڑی
جب تمہارا ایمان اپنی تکمیل پا چکا ہے
تمہارے اندر کے بتکدوں کے تمام اصنام
ڈھ چکے ہیں
سفر کی ساری صعوبتوں سے گزر چکے ہو
گواہ رہنا
صداقتوں کے امین لوگو
گواہ رہنا
کہ میں نے ساری امانتیں تم کو سونپ دی ہیں
سنو
کہ اب جو میں کہہ رہا ہوں
یہی وہ نسخہء کیمیا ہے
جو ذات کے بندھنوں سے
تم کو رہائی دے گا
تمہارے اندر کی سب خلیجوں کو پاٹ دے گآ
میں زندگی کی فصاحتوں اور بلاغتوں کو
سمجھ کے تم سے یہ کہ رہا ہوں
سماعتیں اور بصارتیں قبلہ رُو کرو گے
تو دیکھ لینا
بصیرتوں کے چراغ
خود ہی تمہارے اندر کے سارے طاقوں میں جل اٹھیں گے
تمہیں خبر ہے؟
کہ زندگی اپنے ظاہری خدّوخال سے کتنی مختلف ہے
تمہیں خبر ہے؟
کہ روح کے پُل تلے تمہارے وجود کا عارضی بہاؤ
بڑی ہی سُرعت سے بہ رہا ہے
مرے عزیزو
حیات سکھ ہے
کہ موت کچھ فاصلے پہ
رستے کو کاٹنے کے لیے کھڑی ہے
یہ موت سکھ ہے
کہ اختصار ِ حیات ہی وجہِ دلکشی ہے
جہانِ زیر و زبر کے جھگڑوں سے
ماورا ہو کے دیکھ لینا
تمام سکھ ہے
یہ خواہشوں کا حصیر کچھ دیر کو لپیٹو
فریبِ سود و زیاں سے کچھ دیر
خود کو تفریق کر کے سوچو
جہاں کی ساری اکائیوں کو شمار کر لو
تمام سکھ ہے
یقین رکھو
تمام سکھ ہے