صبح میلادالنبی ہے کیا سہانا نور ہے ۔ منور بدایونی

"نعت کائنات" سے
نظرثانی بتاریخ 05:14, 22 اکتوبر 2017 از Admin (تبادلۂ خیال | شراکت)$7

(فرق) ←پرانی تدوین | Approved revision (فرق) | حالیہ نظرثانی (فرق) | →اگلا اعادہ (فرق)
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

شاعر : منور بدایونی

نعت رسول اللہ صل اعلی علیہ و سلم

صبح میلادالنبی ہے کیا سہانا نور ہے

آگیا وہ نور والا جس کا سارا نور ہے


بزم طیبہ کیسی نورانی ہے، کتنا نور ہے

نور ہے پھر نور کس کا جو سراپا نور ہے


عرش نوری، فرش نوری، ذرہ ذرہ نور ہے

نور کا دربار ہے، ہر سمت چھایا نور ہے


ڈالی ڈالی نور کی ہے پتا پتا نور ہے

گل کھلے ہیں نور کے گلشن میں مہکا نور ہے


میں تہی دامن ہوں داتا تیرے گھر کا نور ہے

لا الٹ دے آج اس دامن میں جتنا نور ہے


جگمگا اٹھے ہیں عرش و فرش و کرسی نور سے

اللہ اللہ کیا چمک، کیا روشنی، کیا نور ہے


جذب ہے ہر چشم بینا میں اسی سائے کا نور

نور کا سایہ نظر کیا آئے سایا نور ہے


تجھ سے پائی ہے تجلی چشم مہر و ماہ نے

تو وہ تارا ہے کہ اعلیٰ نور والا نور ہے


جس نے جو کچھ نور پایا، سب تری سرکار سے

نور کی سرکار کا، تو سب سے پہلا نور ہے


اس طرف بھی اک نگاہِ نور اے نور الہٰ

میں سراپا معصیت ہوں تو سراپا نور ہے


اے منور، ایک میری ہی نظر پر بس نہیں

ہر نظر ہر آنکھ کے پردے میں اس کا نور ہے


نعت خوانوں میں کلام کی پذیرائی

| ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی آواز میں


مزید دیکھیے

جسے چاہا در پہ بلا لیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا | صبح میلادالنبی ہے کیا سہانا نور ہے | نعت محبوبِ داور سند ہو گئی | اللہ نے یہ شان بڑھائی ترے در کے | سر میدان ِ محشر جب مری فرد عمل نکلی