تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے ۔ بہزاد لکھنوی

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page; it is not the most recent. View the most recent revision.
Jump to navigationJump to search


شاعر: بہزاد لکھنوی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے

کہ جیسے وہ روضہ قریب آ رہا ہے


جسے دیکھ کر روح یہ کہہ رہی ہے

مرے درد دل کا طبیب آ رہا ہے


یہ کیا راز ہے مجھ کو کوئی بتائے

زباں پر جو اسم حبیب آ رہا ہے


الہی میں قربان تیرے کرم کے

مرے کام میرا نصیب آ رہا ہے


وہی اشک ہے حاصل زندگانی

جو ہر آنسو پہ یاد حبیبﷺ آ رہا ہے


جسے حاصل کیف کہتی ہے دنیا

خوشا اب وہ عالم قریب آ رہا ہے


جو بہزاد پہنچا تو دنیا کہے گی

در شاہ پر اک غریب آ رہا ہے


مزید دیکھیے

بہزاد لکھنوی