دلیلِ بخشش
کتاب : دلیلِ بخشش
شاعر: سلطان محمود چشتی
پبلشر: پوٹھوہار رہتل اُسار پبلی کیشنز راولپنڈی 03335646004
صفحات : 128
قیمت: 800 روپے
سال ِ اشاعت : 2025
تعارف کنندہ : ارسلان ارشد
دلیلِ بخشش[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
گوجر خان ضلع راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے سلطانؔ محمود چشتی نے بہت کم وقت میں زیادہ کام کر کے دنیائے نعت میں اپنی پہچان بنا لی ہے۔ 2019 میں پوٹھوہاری زبان میں مترجم پہلی سیرت النبی ”محمد رسول اللہﷺ” 2022 میں اپنا پہلا نعتیہ مجموعہ ”سبیلِ بخشش“ اور پھر 2024 میں اِسی کتاب پر موصولہ تبصرہ جات پر مبنی کتاب ”ادبی کہکشائی“ مرتب کرنے والے سلطانؔ محمود چشتی اب اپنے دوسرے مجموعہء نعت ”دلیلِ بخشش“ کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ صاحبزادہ محمد نجم الامین عروسؔ فاروقی(گجرات) نے اِس کتاب کا قطعہء تاریخِ اشاعت لکھا ہے، ]]نسیم سحر]](اسلام آباد)، ڈاکٹر محمد مشرف حسین انجم(سرگودھا)، امجد حمید محسن(گوجرانوالہ)، سید مبارک علی شمسی(حاصلپور)، دلاور علی آزر(کراچی)، ڈاکٹر منصور فریدی(بھارت) پروفیسر سید نسیم تقی جعفری(گوجر خان) کے مضامین/تاثرات/فلیپس کتاب کا حصہ ہیں جبکہ اظہارِ تشکر کے عنوان سے صاحبِ کتاب کا پیش لفظ بھی موجود ہے۔ کلام کی بات کریں تو 1 حمدِ باری تعالیٰ کے بعد نعتِ رسولِ مقبولﷺ کے 77 خوش رنگ اور مہکتے پھول دلیلِ بخشش میں شامل ہیں۔ سلطانؔ محمود چشتی چونکہ خود نعت خواں بھی ہیں اِس لئے اُن کی نعتوں میں نغمگی کا تاثر ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اِس کتاب میں شامل نعتیں بھی اِسی احساس سے لبریز ہیں اور عام فہم الفاظ کی بدولت نعت خوانی کی عوامی محافل میں بھی پڑھنے کے لئے ایک عمدہ انتخاب ثابت ہو سکتی ہیں (کاش ہمارے نعت خواں کلام منتخب کرنے کے لئے کتاب سے استفادہ کرنا شروع کر دیں) سلطانؔ محمود چشتی کی نعتیہ شاعری کے ایک خاص وصف بارے امجد حمید محسنؔ نے اِسی کتاب کے صفحہ نمبر 16 پر اپنے مضمون کے دوران لکھا ہے کہ ”نعت سب سے عظیم ہستی کی بارگاہِ ناز میں ہدیہء عقیدت و محبت پیش کرنے کا نام ہے، اِسی لئے اِنہوں نے انتہائی مؤدبانہ انداز اپناتے ہوئے اپنے اوپر کچھ پابندیاں عائد کی ہیں جس سے محبتِ رسولﷺ کا اظہار اور آدابِ نعت کی بھی خبر ملتی ہے۔ اِنہوں نے نعت کہتے ہوئے حضور نبیء کریمﷺ کی ذاتِ والا شان کے لئے ”تُو“ اور ”تُم“ جیسے الفاظ سے مکمل اجتناب کیا ہے جو اِن کی نعت کا خاصہ ہونے کے ساتھ اِن کے شعری وقار کو مزید جِلا بخشتا ہے“ (امجد حمید محسنؔ صاحب نے تُم اور تُو جیسے لفظوں سے مکمل اجتناب کی نشاندہی کی ہے لیکن اِس مجموعے کے کچھ اشعار میں نبی پاکﷺ کے لئے تیرا، یا تمہارا جیسے الفاظ بہرحال موجود ہیں۔ سلطانؔ محمود چشتی کی احتیاط پسندی دیکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ آئندہ کتب میں اِس پر بھی قابو پا لیں گے)۔ کتاب کے آخری صفحے پر سلطانؔ محمود چشتی نے اپنا مختصر تعارف بھی درج کیا ہے۔ ایسا کوائف نامہ ہر تخلیق کار کو اپنی کتاب میں ضرور شامل کرنا چاہیئے تاکہ پڑھنے والوں کو بھی اُن سے شناسائی ہو سکے اور مستقبل میں اُن کا کام اگر کبھی بھی محققین یا سکالرز کے احاطہء کار میں آئے تو اُنہیں بھی بنیادی معلومات کے حصول میں آسانی رہے۔ اِس کتاب میں موجود نعتوں میں سیرتِ مصطفےٰﷺ، تعلق باالرسولﷺ، تذکرہء و تمنائے شہرِ نبیﷺ اور شانِ اہلِ بیتؓ سمیت بہت سے موضوعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اِسی طرح نورِ کائنات حضرت محمد مصطفےٰﷺ کی ذاتِ نوری کا عمدگی کے ساتھ کیا گیا تذکرہ بھی بہت سے اشعار میں دکھائی دیتا ہے۔ آخر میں ”دلیلِ بخشش“ میں شامل چند ایسے ہی پُر نور اشعار کا انتخاب درج کیا جا رہا ہے
منتخب اشعار[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
نور ونکہت حضورﷺ کا دامن
شانِ مدحت حضورﷺ کا دامن
ستر ہزار بار جو چمکا تھا عرش پر
اُس نور میں بھی رنگ تھا پہلی بہار کا
اُجالا اُسی نور کا ہے جہاں میں
فلک پر یہ کہتا قمر دیکھتا ہُوں
روحِ عالم، سرورِ دِیں، زینتِ کون و مکاںﷺ
ماورا ہے کُل جہاں سے برتری اُس نور کی
ہُوں خاک مگر نور کی نسبت سے سجا ہُوں
زینت مجھے دیتی ہے ضیا آپﷺ کے گھر کی