قندیل حرا ۔ تنویر پھول

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

قندیل حرا معروف شاعر

قندیل حرا معروف شاعر تنویر پھول کا نعتیہ مجموعہ ہے جو ۱۶۰ صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس سے پہلے ان کا حمد و نعت و منقبت کا مجموعہ انوار حرا جو ۳۰۴ صفحات پر مشتمل تھا، منظر عام پر آچکا ہے ۔ قندیل حرا جہان حمد پبلی کیشنز کے زیر اہتمام ۲۰۰۳ ء میں شائع ہوا جبکہ انوار حرا ، حرا فاونڈیشن پاکستان نے ۱۹۹۷ء میں شائع کیا تھا ۔ قندیل حرا میں تنویر پھول نے ۹۲ نعتیں شامل کی ہیں جو بحساب ابجد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسم مبارک محمد کی عددی قیمت کے برابر ہیں ۔ شروع میں اسم ذات اللہ کے عدد کے مطابق ۶۶ اشعار پر مشتمل ایک حمد بھی اس مجموعے میں شامل ہے جس کے چند اشعار یہ ہیں :


                                                                                 پاک مولا ہے ، سب سے اعلیٰ ہے   ۔  حمد    اللہ    کا    قصیدہ    ہے
                                                                                 بندگی    کا    یہ  اِک       طریقہ   ہے   ۔   حمد  ساری اُسی کو  زیبا   ہے
                                                                                مصلحت اُس کی   کوئی کیا    سمجھے    ۔   توسنِ فہم    پا   شکستہ       ہے
                                                                              اُس کی تعریف کی    نہیں  طاقت     ۔    طائر فکر          پر بریدہ       ہے
                                                                             سورہ ء نصر  نے    کہا    ہم   سے     ۔    حمد  کرنا  بھی  اِک فریضہ  ہے
                                                                            اُس کو  چاہو ،  وہ چاہتا ہے تمھیں  ۔     غور کرنے کی دوستو ،  جا    ہے
                                                                           کیسے چھوڑے گا  آخرت میں  وہ  ؟ ۔     جو  یہاں  بھی خیال رکھتا    ہے
اس مجموعے اور شاعر کے بارے میں ڈاکٹر جمیل عظیم آبادی اور طاہر سلطانی نے بصورت تقاریظ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ قندیل حرا میں شامل ایک نعت ملاحظہ کیجئے :
                                                                    مدینے کی زمیں روشن   ،    وہاں    کا    آسماں روشن  ۔  ہیں طیبہ میں شہ بطحا  کے قدموں کے نشاں روشن
                                                                    دیارِ نور و  نکہت میں    شہِ والا  کے   جلوے   ہیں  ۔   ہُوا  انوار ِ طیبہ  سے  مِرے دل  کا    مکاں     روشن
                                                                   ہر اِک ظلمت  مٹی ہے فیض سے نورِ مجسم   کے  ۔    سنہری جالیوں  پر  ہو گئے ہیں قلب و جاں     روشن
                                                                   اندھیرا ہی  اندھیرا  تھا  یہاں  شرک و ضلالت  کا   ۔     سراپا  نور  جب آئے  ،  ہُوا  اُن سے  جہاں      روشن
                                                                  یقینا  فیض تھا      یہ     عشق ِ سرکار ِ  دوعالم   کا    ۔     ہوئی  لحن ِ بلالی      سے    مدینے  کی   اذاں     روشن
                                                                 ضیا  نورالہدیٰ کی چاند میں،سورج میں ، تاروں میں۔      ہوئی ہے گردِ نعلینِ  نبی    سے       کہکشاں      روشن
                                                                سخن ہے پھول کا  روشن ثنائے شاہ ِ طیبہ  سے  ۔      بفیض ِ مدحت ِ سرکار      ہے  اس کا    بیاں     روشن