شفیع اوکاڑوی
پاکستان کے نقیب اول "شہر یار قدوسی " بلبل بستان ِ رضا کا خطاب پانے سعید ہاشمی پر گفتگو فرماتے ہوئے 1960 کی دہائی بارے فرماتے ہیں
" یہ وہ دور تھا جب خطیب پاکستان علامہ محمد شفیع اکاڑوی رحمتہ اللہ علیہ نے نعت ِ سرورِ کونین کے ذریعے عوام الناس کے قلوب میں عشق ِ رسالت کا جذبہ بیدار کرنے کا عزم کر رکھا تھا ۔ ا ور اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں فروغ ِ نعت کا اولین سہرا عاشق رسول ، خطیب پاکستان کے سر ہے جن کا مرتب کردہ نعتیہ کلام "نغمہ حبیب" کے نام سے اس دور میں چار آنے میں مل جایا کرتا تھا "
نمونہ کلام
اللہ اللہ اللہ ہو لا الہ الا ہو
بارہ ربیع الاول کو وہ آیا در یتیم
ماہ نبوت مہر رسالت صاحب خلق عظیم
نبی جی اللہ اللہ اللہ ہو لا الہ الا ہو
آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
پڑھتے ہیں صلی اللہ علیہ و سلم آج در و دیوار
نبی جی اللہ اللہ اللہ ہو لا الہ الا ہو
حامد و محمود اور محمد دو جگ کا سردار
جان سے پیارا راج دلارا رحمت کی سرکار
نبی جی اللہ اللہ اللہ ہو لا الہ الا ہو
پیاری صورت ہنستا چہرہ منہ سے جھڑتے پھول
نور کا پتلا چاند سا مکھڑا کا حق کا پیارا رسول
نبی جی اللہ اللہ اللہ ہو لا الہ الا ہو
کفر و شرک کی کالی گھٹائیں ہو گئیں ساری دور
مشرق و مغرب دنیا کے اندر ہو گیا نور ہی نور
نبی جی اللہ اللہ اللہ ہو لا الہ الا ہو
جبریل آئے جھولا جھولانے لوری دیں غلمان
سوجا سوجا رحمت عالم میں تیرے قربان
نبی جی اللہ اللہ اللہ ہو لا الہ الا ہو