منصور آفاق
منصور آفاق کے بارے محمد اشفاق چغتائی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
"نعت اگر رسمانہ لکھی گئی ہو بلکہ کسی باطنی کر ب کے اظہار کا ذریعہ کر سامنے آئے تو پڑھنے والے پر ایک جداتاثر چھوڑتی ہے۔ ایسی نعت داغ محبت رکھنے والے ہر دل کو وہی کیفیت عطا کرتی ہے جو اس کے خالق پر لمحات تخلیق میں طاری ہوتی ہے۔ محمد منصور آفاق کی نعتیں اس کے طواف عقیدت کا سلسلہ جمیل ہیں۔ تحدیثِ نعمت کا دلکش اسلوب ہیں ۔ سنت اللہ کا حسین اتباع ہیں ۔ اپنی احتیاج وضرورت کا خوبصورت اظہار ہیں اور اس کے ساتھ عصر حاضر کی اذیت رسانیوں کے خلاف بارگاہ رسالت مآب میں استغاثہ ہیں۔ یہی میری نگاہ میں اس کتاب کی نمایاں ترین خصوصیت ہے ۔۔ آفاق نمادنیائے شعر و ادب میں منصور آفاق کی اولین پہچان بن کر آرہی ہے۔ میری دعاہے کہ رب کریم اسی نسبت کواس کی دائمی پہچان بنادے ۔ امین ثم امین""
حالات زندگی
مجموعہ ہائے کلام
نمونہ کلام
نعت ِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نور بہتا ہو جہا ں تشنہ لبی کیسے ہو
آپ کے ہوتے ہوئے تیرہ شبی کیسے ہو
آپ کا دورِ بنوت تو قیامت تک ہے
آپ کے بعد بھلا کوئی نبی کیسے ہو
آسمانوں پہ کہیں ذاتِ الہی کے بعد
جو ہمیشہ سےچمکتا ہو کبھی کیسے ہو
کیسی تخمین ِ خرد، کوئی بجز اللہ کے
مرتبہ دانِ رسولِ عربی کیسے ہو
عمر گزری ہے اِسی خواہشِ نم دیدہ میں
ان کے دربار میں اپنی طلبی کیسے ہو
بے اجازت میں چلا جائوں درِ اقدس پر
حالت ِ ہوش میں یہ بے ادبی کیسے ہو
میں گنہگار ،سیہ کار مدنیے جائوں
مجھ سے ایسی کوئی بھی بوالعجبی کیسے ہو
پھیل جانا ہے اسے کوہِ نداتک منصور
آگ سینے میں محبت کی دبی کیسے ہو