سرمایہء حیات۔ سید وحید القادری عارف

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search


’’سرمایہء حیات‘‘ جناب سید وحید القادری عارفؔ کے منتخب نعتیہ کلام کا مجموعہ ہے جو سن ۲۰۱۴ء میں حیدرآباد دکن سے شائع ہوا۔ یہ مجموعہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ ’’نقد و نظر‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں مختلف دانشوروں کے مضامین شامل ہیں جبکہ دوسرا حصہ ’’نعتیہ کلام‘‘ پر محتوی ہے۔

سرِ ورق دیدہ زیب ہے جبکہ کتاب کی پشت پر جناب ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی صاحب کے حسبِ ذیل منظوم تاثرات درج ہیں۔

’’سرمایہء حیات‘‘ ہے تخلیق شاہکار

اس کو جہانِ علم میں حاصل ہو اعتبار


ُحُبِّ نبی نمایاں ہے ہر ایک شعر سے

عارفؔ کا حُسنِ فکر سبھی پر ہے آشکار


اک قادر الکلام سخنور ہیں آج وہ

اُن کی نگارشات ادب میں ہیں باوقار


اردو ادب کو اُن پہ ہمیشہ رہے گا ناز

ہے جوہرِ سخن سے عیاں دُرِّ شاہوار


حاصل انہیں عبور ہے علمِ عروض پر

اردو ادب میں ہیں وہ روایت کے پاسدار


برقی شعورِ فکر کا اُن کے ہے قدرداں

’’سرمایہء حیات‘‘ ہو یہ فخرِ روزگار


کتاب کی جیکٹ کے اندرونی حصہ پر کتاب میں شامل مضامین سے بعض اقتباسات تحریر کئے گئے ہیں جن سے جنابِ عارفؔ کی نعتیہ شاعری پر مختصر ضوفشانی ہوتی ہے:

ڈاکٹر توفیق انصاری احمد صاحب لکھتے ہیں

جنابِ وحید قادری عارفؔ اپنے والدِ محترم حضرت العلامہ ابو الفضل سید محمود قادری ؒ کے فرزندِ دلبند ہیں جن کی عربی' اُردو اور فارسی تعلیم و تربیت پر حضرت ؒ کی نگاہِ خاص رہی اور حضرت ؒ نے اپنی زندگی میں ہی اپنا علمی جانشین پیدا فرمادیا تھا۔

ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی صاحب لکھتے ہیں

حضرت سید وحید القادری صاحب کی نعت گوئی روایتی نعت نگاری کے اسلوب کے ساتھ ساتھ جدّت و ندرت کی آئینہ دار ہے۔ جس کے سبب آپ کے کلام میں تازگی و طرفگی کے گلہائے رنگارنگ قاری و سامع کو براہِ راست متاثر کرنے میں مکمل طور پر کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر احمد اللہ خان صاحب تحریر فرماتے ہیں

جناب ابو الحسین سید وحید القادری عارفؔ صاحب اُن چند لوگوں میں شامل ہیں جن کو نہ صرف فنِ شعرگوئی کا شعور ہے بلکہ اس فن کی اعلیٰ صنف یعنی نعت گوئی کا سلیقہ بھی آتا ہے۔

جناب عزیز بلگامی صاحب رقمطراز ہیں

نعتِ نبی کے حوالہ سے اپنے قاری کو عقیدت کے دائرے سے نکال کر اطاعت کے دائرے میں لانے کے لئے عارفؔ بھائی نے شعوری اور دانستہ کوشش کی ہے۔ ان کی ہر نعت پر یہ احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے ہماری فرمائش پر نعت تخلیق فرمائی ہے اور وہ اپنی تازہ نعت سناتے ہیں تو ہم واقعتاً جھوم اُٹھتے ہیں۔

جناب غلام ربّانی فدا صاحب لکھتے ہیں

سید وحید القادری عارفؔ کی نعتیہ فکر سُتھرا اسلوبِ بیان رکھتی ہے۔ اُن کے ذخیرہء علم میں دین اور ادبِ اُردو اور فارسی و عربی دونوں کی رونقیں یکجا ہیں۔ اس لئے اُن کے اسلوب و اظہار میں دونوں کے انعکاسات ملتے ہیں۔ وہ جہاں عربی و فارسی کے الفاظ اور ترکیبیں استعمال کرتے ہیں وہیں اودھ اور دلّی کی شستگی سے بھی اُن کا لسانی انسلاک نظر آتا ہے۔ ثقیل اور بھاری بھرکم الفاظ کے ساتھ عام فہم اور رواں بول چال کے آسان الفاط بھی ان سے مانوس نظر آتے ہیں۔

جناب سید افتخار حیدر صاحب لکھتے ہیں

محترم جناب سید وحید القادری عارفؔ صاحب کا کلام چاہے وہ حمد ہو نعت ہو منقبت و سلام ہو یا غزل ہو ہر آن عرفان و آگہی کا درس ہوتا ہے۔ خصوصاً جب نعت و منقبت اور سلام کہنے کی جسارت فرمائیں تو ایسے جیسے نور السمٰواتِ و الارض ایک سراجاً منیرا میں سمٹ آیا ہے اور آپ اس کا پروانہ وار طواف فرما رہے ہیں اور مجال نہیں جو پاسِ ادب ہاتھ سے نکلنے پائے۔

جناب ابو الفضل سید احمد اعزار صاحب تحریر کرتے ہیں

سدا بہار لڑیوں میں سے ایک لڑی یا ایک پھول پسند کر کے علٰحدہ کرنا ہر کسی کے لئے مشکل کام ہے۔ موصوف کی باغبانی سے تیار شدہ گل ہائے صد رنگِ چمنِ نعت کی ایک پتّی پر نظر جمایئے اور لامحالہ اسے پسند کرنے کا شرف حاصل کیجئے ۔۔پھر دوسری پتّی پر۔ کتنی دیر تک؟ جب تک آپ میں طاقت و ہمت ہے۔