بارِعصیاں سے ہو کے لرزیدہ ۔ ذوالفقار علی دانش
نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 02:03، 5 جولائی 2017ء از 39.41.222.40 (تبادلۂ خیال) (نیا صفحہ: بارِعصیاں سے ہو کے لرزیدہ آ گیا میں مدینے نم دیدہ چاند ، سورج ، زمیں، فَلَک ، تارے آپ کا کُل جہا...)
بارِعصیاں سے ہو کے لرزیدہ
آ گیا میں مدینے نم دیدہ
چاند ، سورج ، زمیں، فَلَک ، تارے
آپ کا کُل جہاں ہے گرویدہ
وہ خدا کے حبیب ہیں، سن لو !
"ان کی ہر بات ہے پسندیدہ "
رب نے آیت اتاری " ترضا ھا "
مُصْطَفٰے نے جو دیکھا دُزدیدہ
ہاتھ ٹوٹیں ابو لَہَب تیرے
تُو کہ کرتا ہے اُن کو رنجیدہ
وہ شفاعت کریں گے محشر میں
اُن سے کچھ بھی نہیں ہے پوشیدہ
اک نگاہِ کرم ہو دانش پر
در پہ آیا کھڑا ہے نم دیدہ