فراتِ فکر

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 10:42، 13 دسمبر 2025ء از Naatlover (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (فراتِ فکر)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigationJump to search

فراتِ فکر میں موجود کلام میں اُس کے نام سے کرتا ہوں ابتدائے سُخن سکوت حرف کو اذن بیان دیتا ہے اِلہام کی رِم جِھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے یہ سرزمین حرم ، شہر التفات و نجات اے شہر علم و عالم اسرار خشک و تر کبھی جو اس میں رسول کا نقش پا ملا ہے یہ معجزہ نعت رسول مدنی ہے جب سے تو نظر میں بس گیا ہے پہلے مہ و خورشید کو تسخیر کروں میں تمام حمد ہے اُس خالق ازل کے لیے نوک نیزہ پہ جو سر رکھتے ہیں اے شمع شبستان دل سرور کونین جمالِ رُوئے نبی ، حسن کبریا ہے علی یہ تطہیر کی رُت یہ نکھری فضا کتنی بلندیوں پہ ہے ایوان فاطمہ تسلیم کہ دنیا میں گنہ گار بھی ہم ہیں سج گئی محفل دیار سخن آج کی رات جس طرف دیکھو آبِ تطہیر میں لبوں کی چمک مرحبا اوج نقش پائے حسن جب بھی شاہی کے غیض نے چاہا اے شہنشاہ کہکشاں گیتی رونق شارخ سردار بنو بَصد رکوع و سجود و قیام کہنا ہے قریۂ جاں میں اُبھرنے لگا پھر گریہ شب نکھرے ہوئے کردار کا قرآن ہے سجاد کیا خاک وہ ڈریں گے لحد کے حساب سے مرحبا ، پھر کِھل رہا ہے آدمیت کا چمن دیکھنا ، رتبہ ہے کتنا محترم عباس کا نوبت بجی ، سجی وہ خیالوں کی انجمن پھر آیا ہے محرم کا مہینہ چَھٹے گی کذب کی گرد کُہسن آہستہ آہستہ حسن مولا، حوادث جب بہ انداز دگر آئے میزان عدل میں ہیں برابر کے دوام عہد خزاں سرشت کی غارت گری نہ پوچھ صاحب فکر و نظر، حق کا ولی کہتے ہیں حُسن حق، واقف اسرار جلی یاد آیا مزاج گل شاخ گل پہ دیکھو مقام خوشبو صبا سے پوچھو ہو خُم پر جس کا اعلان امیر المومنین ہونا شجاعت کا صدف مینارہ الماس کہتے ہیں نبضیں لرز رہی ہیں ضمیر حیات کی تاجدار قلب و جاں، سجرِ سخا عباس ہے اس کے مقابلے میں ہے اندھی ، ستم کی دُھوپ انگشتری ہے دیں کی تو نگینہ حسین کا اے خدا فکر کی تقسیم اٹل ہو جاتی روز حساب سب کا سفر ہو گا مختلف دل میں شبیر کی چاہت کا اثر پیدا کر یہ بات صرف ختم نہیں معجزات پر تاریخ تیرے بُخل پہ روئے گی عمر بھر دشت بلا کی دھوپ میں ٹکرا کے موت سے توحید کی چاہت ہے تو پھر کرب و بلا چل کوئی تو ہے جو ظلم کے حملوں سے دور ہے مصیبت کانپنے لگتی ہے اک نعرے کی ہیبت سے دریائے علم وفضل کا گوہر تو ہے علی فشار قبر کو ایسا نڈھال کر دوں گا وہ اب بھی ہے نا واقف تہذیب و شرافت مرضی ہے تیری ، فکر میں ترمیم کر نہ کر اس مسئلے پہ سوچنا کیسا ، کہاں کی بحث؟ مولا حسین تیری مودت سے عہد ہے قرطاس شفاعت کے سوا اور بھی کچھ مانگ ممکن نہیں کسی سے عداوت حسین کی سکتے میں خواب دیں ہے کہ تعبیر کچھ کہے یہ تشنگی یہ ضمیر بشر کی لوح نجات دشمن شکارِ موج عمل ہو کے رہ گیا گر دل میں کدورت ہے ولی ابن ولی کی بشر کا ناز ، نبوت کا نور عین حسین بشر کا ناز ، نبوت کا نور عین حسین کیا علم تمھیں سائیہ دیں اوڑھنے والو مولائے غوث و قطب قلندر ہے تو حسین واجب خدا کی ذات ہے ، ممکن حسین ہے چھلنی ہے ظلم وجور سے جادہ حسین کا وہ جس کی سلطنت ہو دل ماوؑطین پر اے رب جہاں پنجتن پاک کے خالق یہ رنگ یہ رم جھم یہ برستی ہوئی خوشبو ہم ایسے سادہ دلوں سے حجاب کیسا ہے؟ دھرتی نہا رہی ہے گلابوں کے رس میں آج