گلدستہ مداح النبی
گلدستہ مداح النبی پہلا نعتیہ رسالہ ہے ۔ اگرچہ غلام احمد اخگر اپنے نعتیہ رسالے گلستان ِ رحمت کے لیے بھی یہی دعوی کرتے ہیں ۔ لیکن وہ درست نہیں ۔ گلستان ِ نعت کا پہلا پرچہ 4 نومبر 1907 کو نکلا
پہلا نعتیہ رسالہ
مشہور نعتیہ شاعر و ادیب تنویر پھول ، صبیح رحمانی کو اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں۔
’’گلدستہ مداح النبی‘‘۔یہ نعتیہ کلام کا ماہ نامہ گلدستہ جھجر ضلع رہتک سے 1895ء کو شائع ہوا۔پہلے سولہ (۱۶) صفحات پر ، بعد میں بیس (۲۰) صفحات پر نکلنے لگا تھا۔ مہتمم مولوی غلام احمد خاں بریاںؔ تھے۔ سالانہ چندہ ایک روپیہ تھا۔ نمونہ کا پرچہ ڈیڑھ آنہ میں ملتا تھا۔ مسلم پریس جھجر میں طباعت ہوتی تھی۔
اس گلدستہ میں نعتیہ کلام کے ساتھ اپریل ۱۸۹۷ء کے بعد سے ایک ناول بالاقساط چھپنے لگا تھا، اس وقت سے بیس صفحات ہو گئے تھے اور اس کی ابتدا مولانا بریاںؔ نے اپنے ناول ’’الحسنات‘‘ سے کی تھی۔ مولانا نے کتب تصوف بھی تالیف فرمائی تھیں۔‘‘۔ تاریخ صفحات اردو ، جلد سوم، ص۶۵۵ <ref>تنویر پھول ، نعت نامے، نعت رنگ کراچی ، شمارہ 26 </ref>
مزید دیکھیے
گلستان ِ نعت | مجلہ نعت رنگ | ماہنامہ مدحت، لاہور
=== حواشی و حوالہ جات ====