شان نبی منشی پیارے لال صاحب رونق دہلوی

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 11:31، 12 اپريل 2017ء از اقتدار احمد خان (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (نیا صفحہ: شان نبی ستارہ اوج پر کیونکر نہ ہو شان نبوت کا فلک منظر ہے رتبہ تیرے احکام شریعت کا کھلا تجھ سے جہ...)

Jump to navigationJump to search

شان نبی

ستارہ اوج پر کیونکر نہ ہو شان نبوت کا


فلک منظر ہے رتبہ تیرے احکام شریعت کا


کھلا تجھ سے جہاں میں راز سربستہ حقیقت کا


دکھایا حسن کثرت میں ہے جلوہ راز وحدت کا


نہ تجھ سا پیشوائے دیں اگر پیدا یہاں ہوتا


نہ بنیاد زمیں ہوتی نہ قائم آسماں ہوتا


جہاں میں تو نے چمکایا ہے وہ آئینہ قرآں کا


کہ جس سے ہر طرف پھیلا ہوا ہے نور ایماں کا


ضیاءدیں ہے بہر چشم عالم باب عرفاں کا


دلوں میں تو نے جلوہ بھر دیا توحید یزداں کا


جلائی بزم امکاں میں وہ مشعل حق پرستی کی


ہوئی روشن حقیقت جس سے تیری پاک ہستی کی


تجھے ختم الرسل کہتے ہیں شاہ انبیاء تو ہے


جناب سرور عالم محمد مصطفی تو ہے


یہ حق ہے نائب حق ہے حبیب کبریاء تو ہے


ہمارا ہیشوائے دیں ہمارا راہنما تو ہے


ہوئی ہے دم قدم سے تیرے مذہب کی فراوانی


تجھی سے ہے یہاں قائم یہ بنیاد مسلمانی


نہ ہوتا کیوں زمانہ معتقد تیری رسالت کا


چلایا ہر طرف تو نے یہاں سکہ شریعت کا


ہوا عالم ہر اک لے کر سبق قرآں کی آیت کا


چلن ہر سو ہوا تجھ سے عبادت کا ریاضت کا


جبھی تجھ کو شفیع دو جہاں حق نے بنایا ہے


کلام پاک میں نام محمد صاف آیا ہے


حقیقت میں مطیع حکم ہے سارا جہاں تیرا


تسلط ہے دوعالم میں یہاں تیرا وہاں تیرا


زمیں پر بھی ہے گھر تیرا فلک پر بھی مکاں تیرا


نشان حق سے ملتا ہے ہر اک جا پر نشاں تیرا


دل رونق نے ڈھونڈا جس طرف تجھ کو ادھر پایا


یہاں بھی جلوہ گر پایا، وہاں بھی جلوہ گر پایا


(مجموعہ کلام - کلام رونق)