تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے ۔ بہزاد لکھنوی

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 05:27، 29 جنوری 2024ء از 223.123.108.88 (تبادلۂ خیال) (←‏{{نعت }})

(فرق) → پرانا نسخہ | Approved revision (فرق) | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigationJump to search


شاعر: بہزاد لکھنوی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے

کہ جیسے وہ روضہ قریب آ رہا ہے کھلی کھلی کلیاں ہیں طیبہ کی گلیاں ہیں

جسے دیکھ کر روح یہ کہہ رہی ہے

مرے درد دل کا طبیب آ رہا ہے


یہ کیا راز ہے مجھ کو کوئی بتائے

زباں پر جو اسم حبیب آ رہا ہے


الہی میں قربان تیرے کرم کے

مرے کام میرا نصیب آ رہا ہے


وہی اشک ہے حاصل زندگانی

جو ہر آنسو پہ یاد حبیبﷺ آ رہا ہے


جسے حاصل کیف کہتی ہے دنیا

خوشا اب وہ عالم قریب آ رہا ہے


جو بہزاد پہنچا تو دنیا کہے گی

در شاہ پر اک غریب آ رہا ہے

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

بہزاد لکھنوی