غلام فخرالدین سیالوی
خواجہ غلام فخرالدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق سلسلہ چشتیہ کی بہت بڑی درگاہ سیال شریف سے تھا۔ آپ حضرت خواجہ ضیاء الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ کے تیسرے صاحبزادے تھے۔ آپ 1329ھ مطابق 1911ء کوسیال شریف ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ حافظ کریم بخش صاحب سےقرآن پاک حفظ کیا۔ حضرت خواجہ محمد حامد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ سے شرفِ بیعت حاصل کیا۔ ابتدائی تعلیم سیال شریف ہی میں حاصل کیا۔ قطبی، مشکوۃ شریف، مقاماتِ حریری اور سبعہ معلقہ وغیرہ مولانا معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں۔ صوفیائے کرام کی روایات کے مطابق آپ کو شعروسخن کا پاکیزہ مذاق بھی حاصل تھا۔ آپ عربی، فارسی، اردو اور پنجابی میں شعر کہتے تھے۔ آپ کی فارسی کی ایک غزل کا مطلع ہے:
ز تصوُّرِ جمالت بخدا شُد آشنائی
ز خیالِ خاکِ پایت بدو دیدہ روشنائی
یہ غزل شیخ فخرالدین ابراہیم عراقیؔ کی زمین میں ہے۔
رباعی
آپ کے نزدیک رباعی کے لیے کوئی بحر خاص نہیں۔ آپ نے رباعی کے مخصوص اوزان سے ہٹ کر رباعیاں کہی ہیں۔ آپ کی ایک رباعی درج ذیل ہے:
کوئی جاکر کہے میرے پیا سے
کہ تیری دید کے ہیں نین پیاسے
تمھارے پائوں سے مہندی نہ اُترے
مرے کوئی جیے تیری بلا سے
حکمت
آپ اعلیٰ پائے کے حکیم بھی تھے۔ آپ کے کلام میں کئی بیماریوں کے منظوم نسخے بھی ملتے ہیں۔ قے کے لیے آپ کا منظوم نسخہ یہ ہے:
قدر یک سرخ زرد چوب بیار
دو سہ نوبت بخور بمائے حمیم
گرچہ قے مفرط ست بند کند
ذاتِ پاکِ خدا بفضلِ عمیم
تاریخ گوئی اور رحلت
تاریخ گوئی میں آپ کو کمال حاصل تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے ’’ اچھی تاریخ وہ ہے جو مصرع سے برآمد ہو‘‘۔ آپ کی اپنی کہی ہوئی اکثر تاریخیں مصرعوں سے برآمد ہوتی ہیں۔ آپ نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں درج ذیل قطعہ کہا:
الٰہی! شکر کروں کتنا، فخر کتنا کروں
ترے کرم نے مجھے فائز المرام کیا
بنا کے رحمتِ عالم کا اُمّتی مجھ کو
خطا سے پہلے ہی بخشش کا انتظام کیا
مصرعِ ثانی سے 1419اعداد برآمد ہوتے ہیں۔ ہجری اعتبار سے یہی آپ کا سالِ وصال ہے۔
نعت گوئی
آپ بارگاہِ رسالت کےنہ صرف ادب آشنا تھےبلکہ ادب آموز بھی تھے لہذا بڑی احتیاط سے نعت کہتے تھے۔ آپ کے درج ذیل نعتیہ قطعہ نے بہت شہرت پائی۔
بابِ جبریل کے پہلو میں ذرا دھیرے سے
فخرؔکہتے ہوئے جبریل کو یوں پایا گیا
اپنی پلکوں سے درِ یار پہ ستک دینا
اونچی آواز ہوئی عمر کا سرمایہ گیا
نمونہ نعت
معطّر شُد دل از بوئے محمّد
معنبر جاں زِ گیسوئے محمّد
کہن شُد قصّہ ہائے آبِ حیواں
بگو از کوثرِ جوئے محمّد
حبیبِ حق بود آں کس کہ باشد
بہر کارے رضا جوئے محمّد
کماں شُد پُشتِ من از بارِ عصیاں
علاجش زیرِ ابروئے محمّد
پئے کوتاہ دستاں فخرؔ بینم
کشادہ دست و بازئے محمّد
مطبوعہ کتب
۱۔ بابِ جبریل ۲۔ الفقر فخری ۳۔ آدابِ فرزندی