پھول کھلا دے شاخوں پر پیڑوں کو پھل دے مالک
نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 11:17، 16 جولائی 2022ء از 157.33.84.134 (تبادلۂ خیال) (نیا صفحہ: {{بسم اللہ }} شاعر: شکیل اعظمی بشکریہ:عالم نظامی === {{حمد}} === پھول کھلا دے شاخوں پر پیڑوں کو پھل...)
شاعر: شکیل اعظمی
بشکریہ:عالم نظامی
حمدِ باری تعالی جل جلالہ
پھول کھلا دے شاخوں پر پیڑوں کو پھل دے مالک
دھر تی جتنی پیاسی ہے اتنا تو جل دے مالک
کہرا کہرا سردی ہے کانپ رہا ہے پورا گاؤں
دن کو تپتا سورج دے رات کو کمبل دے مالک
بیلوں کو اک گٹھری گھاس انسانوں کو دو روٹی
کھیتوں کو بھر گیہوں سے کاندھوں کو حل دے مالک
وقت بڑا دکھ دایک ہے پاپی ہے سنسار بہت
نردھن کو دھنوان بنا دربل کو بل دے مالک
ہاتھ سبھی کے کالے ہیں نظریں سب کی پیلی ہیں
سینہ ڈھانپ دوپٹے سے سر کو آنچل دے مالک
کل کو آج سے باندھے رکھ آج کو کل سے جوڑے رکھ
جب تک کھیل تماشہ ہے پیر کو منگل دے مالک