گردش وقت کے جب ظلم و ستم یاد آئے
شاعر: عالم نظامی
شاعر :افضل الہ آبادی
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کسی بھی شخص کی یہ آن بان تھوڑی ہے
رسولِ پاک سا کوئی مہان تھوڑی ہے
یہ جان جان دوعالم کی جاں کا ہے صدقہ
ہمارے جسم میں ایسے ہی جان تھوڑی ہے
نبی کے ذکر کی خوشبو کا ہے کرشمہ یہ
ہمارے منھ میں کوئی زعفران تھوڑی ہے
قمر کا چہرہء انور فقط ہے اک نقطہ
نبی کے حسن کی یہ داستان تھوڑی ہے
یہاں کے چاند ستارے کبھی نہیں بجھتے
در رسول ہے یہ آسمان تھوڑی ہے
نہ کر سکیں گے ادا مدحت رسول کا حق
ہمارے منھ میں خدا کی زبان تھوڑی ہے
خدا کے بعد زمانے میں اس خدائی پر
نبی کے جیسا کوئی مہربان تھوڑی ہے
یقین کیجئے نیزے پہ چڑھ کے بولے گا
علی کا خون ہے یہ بے زبان تھوڑی ہے
نبی کے گھر کا ہے ہر فرد محترم افضل
جہاں میں ایسا کوئی خاندان تھوڑی ہے
گردش وقت کے جب ظلم و ستم یاد آئے
آپ شدت سے ہمیں شاہ امم یاد آئے
غمزدہ دل میں مسرت کے دئے جلنے لگے
سرور دیں جو مجھے شام الم یاد آئے
اپنے ماضی کی طرف جب بھی پلٹ کر دیکھا
مجھ پہ سرکار کے ہیں کتنے کرم یاد آئے
پھوٹ کر روتی رہیں وقت سحر تک آنکھیں
جب شب ہجر شہنشاہ حرم یاد آئے
ہچکیاں آنے لگیں نعت نبی پڑھتے ہی
ایسا لگتا ہے شہ والا کو ہم یاد آئے
جس کو مل جائے در خاک نبی کی دولت
اس کو ممکن ہی نہیں جاہ و حشم یاد آئے
فکر کرنے لگی جبریل کے پر سے باتیں
جب شہ دیں کے مجھے نقش قدم یاد آئے
مجھ پہ ہونے لگی انوار سخن کی بارش
آپ کی زلف معنبر کے جو خم یاد آئے
حسرت دید کا عالم بھی عجب عالم ہے
ایسے عالم میں نہ کیوں ملک عدم یاد آئے