تبادلۂ خیال:احمد رضا خان بریلوی
نعت کائنات سے
صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
اُٹھادو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے
واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا
پل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
پیش حق مثردہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفی کہ یوں
[[ ]]
[[ ]]
[[ ]]