سکتہ - رموز اوقاف
تحریر : فیض شیخ
رموزِ اوقاف/اوقافی علامات (Punctuation):
” وہ خاص علامتیں جو عبارت کو صحیح طور پر پڑھنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں، انھیں رموزِ اوقاف کہتے ہیں۔“
سکتہ (Comma):
کسی ایک لفظ یا فقرے کے بعد تھوڑا سا ٹھہرنے کے لیے جو علامت استعمال کی جاتی ہے، اُسے سکتہ (،) کہتے ہیں۔“
سکتہ کا استعمال
حروفِ عطف سے پہلے:
حروفِ عطف (اور، لیکن، یا، نہ وغیرہ وغیرہ) سے پہلے
میں چڑیا گھر گیا، اور میں نے شیر دیکھا۔
منحصر فقرے کے بعد:
جب میں چڑیا گھر گیا، میں نے شیر دیکھا۔
سلسلہ وار الفاظ کے درمیان:
میں چڑیا گھر گیا، اور میں نے وہاں شیر، ریچھ، ہاتھی اور گینڈے کو دیکھا۔
متعلق فعل کے بعد:
اس کا آسان کلیہ یہ ہے کہ وہ فعل جو انگریزی میں ly پر ختم ہوتے ہیں جیسے: finally, unsurprisingly, carefully وغیرہ سے جملہ شروع ہو تو ان الفاظ کے بعد بھی سکتہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر:
آخر کار، میں نے ناول لکھ لیا۔
.پتہ (Address) لکھتے ہوئے:
ارباب محلہ، گلی نمبر 1، بھاگ ناڑی ، ضلع کچھی
تاریخ لکھتے ہوئے:
20 جولائی، 1998، میری سالگرہ کا دن ہے۔
ہاں اور نہیں کے درمیان
جب جملے کا پہلا لفظ” ہاں“ اور” نہیں“ ہو۔
ہاں، میں نے شیر دیکھا جب میں چڑیا گھر گیا۔
دوصفات اور ایک اسم
سکتہ کا استعمال جب دو صفات ایک اسم کو ظاہر کر رہے ہوں۔
میں نے خوبصورت، سفید پنکھوں والا مور دیکھا۔
مثبت و منفی کے درمیان
ایک مثبت اور ایک منفی جملہ کے درمیان:
میں نے ایک شیر کو دیکھا، نہ کہ ریچھ کو۔
اگر کوئی قول اس نے کہا، میں نے سنا، اس نے پڑھا، تم نے لکھا وغیرہ وغیرہ سے پہلے آئے یا بعد میں:
” محبت وجہوں،دلیلوں اور منطقوں کو نہیں مانتی،“ اس نے کہا۔
میں نے کہا،” محبت اور مذاق ہر کسی کے ساتھ نہیں کیے جاسکتے۔“
اشعار میں
.اشعار میں ایسے مقامات پر سکتہ ضرور لگانا چاہیے جہاں مصرعے کے لفظوں سے تعقید و گنجلک دور ہوجائے اور مطلب خبط نہ ہو
مثلاً :
ہم سے کیا ہوسکا محبت میں
خیر، تم نے تو بے وفائی کی
فراق